اسلامی ممالک کا غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر زور

استنبول میں اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں غزہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی سخت مذمت کی گئی۔
اجلاس میں مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیہ اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ پاکستان کی نمائندگی نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کی۔
شرکائے اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی فوری اور بلا تعطل رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کو کم کیا جا سکے۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی افواج سے مقبوضہ علاقوں سے فوری انخلا کا مطالبہ بھی کیا۔
اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری جنگ بندی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل کو سیزفائر کی خلاف ورزیاں روکنی چاہئیں اور انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں دور کرنی چاہئیں۔ ان کے مطابق ترکیہ ایک ایسے نظام کی حمایت کرتا ہے جس میں فلسطینی اپنی حکومت اور سلامتی کے خود ذمہ دار ہوں۔
پاکستان نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک اقوام متحدہ اور او آئی سی کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے قبل کی سرحدوں اور القدس الشریف کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔









