استنبول میں پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل، پاکستان کا دہشتگردی کے خاتمے کیلئے جامع پلان پیش

ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ اختتام پذیر ہوگیا۔ یہ بات سفارتی ذرائع نے بتائی ہے۔
مذاکرات استنبول کے ایک مقامی ہوٹل میں ہوئے جن کی میزبانی ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے کی۔ مذاکرات میں پاکستان اور افغانستان کے نمائندہ وفود نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں دوحہ میں ہونے والے پہلے مذاکرات میں طے پانے والے نکات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ پاکستان نے طالبان حکام کو دہشت گردی کی روک تھام اور سرحدی امن و امان کے قیام کے لیے ایک جامع منصوبہ پیش کیا۔
پاکستانی وفد دو رکنی تھا جبکہ افغان وفد کی قیادت نائب وزیرِ داخلہ رحمت اللہ مجیب نے کی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان عارضی جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دوسری جانب، پاک افغان کشیدگی کے باعث چمن، خیبر، جنوبی و شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کے سرحدی راستے دو ہفتوں سے زائد عرصے سے بند ہیں، جبکہ طورخم، باب دوستی، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان بارڈر پر درجنوں مال بردار گاڑیاں تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔









