مشتاق احمد خان 9 اکتوبر کو پاکستان پہنچیں گے

سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی فورسز کی قید سے رہا کر دیا گیا ہے، جس کی باقاعدہ تصدیق پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق متعلقہ ادارے ان کے پاکستان واپس لانے کے انتظامات کر رہے ہیں اور توقع ہے کہ وہ 9 اکتوبر کو وطن پہنچ جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق مشتاق احمد خان کو چند روز قبل غزہ کی طرف امداد لے جانے والے بحری قافلے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد پاکستانی حکام نے مسلسل سفارتی رابطے جاری رکھے، جس کے نتیجے میں انھیں دیگر قیدیوں کے ساتھ رہا کیا گیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے مشتاق احمد خان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کی خیریت دریافت کی؛ اس موقع پر انہوں نے سابق سینیٹر کے حوصلے کی تعریف کی اور کہا کہ حکومت اُن کی محفوظ واپسی کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ وزارتِ خارجہ نے بھی کہا کہ یہ رہائی پاکستان کی موثر سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے اور متعلقہ ادارے واپسی کے انتظامات میں مصروف ہیں۔
رہا ہونے کے بعد مشتاق احمد خان اردن پہنچے جہاں انہوں نے ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ انہیں قید کے دوران بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اُن پر “کتے چھوڑے گئے، پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئیں اور جسمانی و ذہنی اذیت دی گئی” اور وہ پانچ سے چھ روز تک حراست میں رہے۔ مشتاق احمد نے بتایا کہ ان کے ساتھ تقریباً 150 افراد کو بھی رہا کیا گیا۔
مشتاق احمد خان نے اس ویڈیو پیغام میں مزید کہا کہ وہ جلد پاکستان واپس جائیں گے اور اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اُنہوں نے اعلان کیا کہ “ہم اسرائیل کے خاتمے اور مسجدِ اقصىٰ کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔”









