یو این بیکار، امن کا بوجھ امریکہ نے اٹھایا: ٹرمپ کا دعویٰ

0
112
یو این بیکار، امن کا بوجھ امریکہ نے اٹھایا: ٹرمپ کا دعویٰ

نیو یارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اقوام متحدہ کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کو جن مقاصد کے لیے بنایا گیا تھا، وہ پورے نہیں ہو سکے۔

صدر ٹرمپ نے سوال اٹھایا کہ ’’سوچتا ہوں کہ اقوام متحدہ کو بنانے کا مقصد کیا تھا؟‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگیں رکوانا یو این کی ذمہ داری تھی، لیکن اسے اس میں کامیابی نہیں ملی، اس لیے انہیں خود اقدامات کرنے پڑے۔

اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے دورِ حکومت میں غیر قانونی امیگریشن میں نمایاں کمی آئی، اور حالیہ مہینوں میں یہ تعداد صفر تک پہنچ گئی ہے۔ ان کے مطابق بائیڈن حکومت کے دوران لاکھوں افراد غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل ہوئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی قیادت میں امریکہ نے سات جنگیں ختم کروائیں اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان، بھارت اور ایران کے ساتھ مل کر اسرائیل سے متعلق ایک بڑی پیش رفت کی۔

صدر ٹرمپ نے ایران پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ ایران دنیا کا سب سے بڑا دہشت گردی کا معاون ملک ہے، اور ان کی پالیسی کا مقصد ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنا رہا ہے۔

روس اور یوکرین کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جنگ رُکوانا آسان لگتا تھا، لیکن چین اور بھارت اس کے پیچھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روس جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے، اور امریکہ روس پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے لیے تیار ہے۔

غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حماس کو یرغمالیوں کو رہا کرنا چاہیے، اور غزہ میں فوری جنگ بندی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا حماس کے لیے ایک انعام کے مترادف ہے، لیکن امن کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اپنی تقریر میں انہوں نے امریکہ کی معیشت، داخلی سلامتی، اور سرحدی کنٹرول کو بھی سراہا اور کہا کہ ان کی پالیسیوں نے امریکہ کو ایک محفوظ اور مستحکم ملک بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی میں کمی آئی ہے اور واشنگٹن ڈی سی کو صرف 20 دن میں پرامن بنا دیا گیا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے گرین انرجی منصوبوں کو دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ گلوبل وارمنگ کا تصور مبالغہ آرائی پر مبنی ہے، اور حقیقت میں موسم سرد ہو رہا ہے۔

برطانیہ کے حوالے سے اپنے خطاب میں انہوں نے لندن کے میئر صادق خان پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ وہ لندن میں شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور اسے ’’امریکہ کا سنہری دور‘‘ قرار دیا۔

Leave a reply