جانیں کچھ حیرت انگیز خوف جن کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی خوف کا شکار ہوتا ہے، چاہے وہ اونچائی کا ہو، تنہائی کا، یا پھر اندھیرے کا۔ لیکن کچھ خوف ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں سن کر آپ کو حیرت ہو سکتی ہے۔ یہ فوبیاز بظاہر معمولی چیزوں سے جڑے ہوتے ہیں لیکن متاثرہ افراد کے لیے یہ انتہائی سنجیدہ اور تکلیف دہ تجربہ بن جاتے ہیں۔
آئیے جانتے ہیں چند ایسے عجیب و غریب فوبیاز کے بارے میں جو شاید آپ نے پہلے کبھی نہ سنے ہوں۔
نہانے سے ڈر
نہانے یا خود کو صاف کرنے سے خوف محسوس کرنا ابلوٹوفوبیا کہلاتا ہے۔ یہ فوبیا اکثر بچوں میں پایا جاتا ہے لیکن بعض اوقات نوجوانوں یا بڑوں میں بھی موجود رہتا ہے۔ ایسے افراد نہ صرف نہانے سے گریز کرتے ہیں بلکہ پانی یا گیلے ہونے کا خیال بھی انہیں پریشان کر دیتا ہے، جو کہ ایکوا فوبیا کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔
کپڑوں سے خوف
کیا کبھی کسی نے لباس سے ڈرنے کا تصور کیا ہے؟ ویسٹی فوبیا ایک ایسا خوف ہے جس میں افراد مخصوص لباس یا کپڑوں کی اقسام سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ یہ خوف کسی بری یاد، الرجی یا نفسیاتی صدمے کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔ بعض سابق فوجی اپنی وردی سے بھی یہی خوف محسوس کرنے لگتے ہیں۔
آئینہ دیکھنے کا ڈر
کچھ لوگوں کے لیے آئینہ صرف عکس نہیں بلکہ خوف کی علامت ہوتا ہے۔ اسپیکٹروفوبیا کا شکار افراد آئینے سے گریز کرتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ آئینے میں انہیں کوئی سایہ یا مافوق الفطرت چیز نظر آ سکتی ہے، یا وہ اپنے آپ کو دیکھ کر شرمندگی محسوس کرتے ہیں۔ یہ خوف خود اعتمادی کی کمی اور ڈپریشن کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
پیلے رنگ کا خوف
زینتوفوبیا وہ کیفیت ہے جس میں فرد پیلے رنگ سے خوف کھاتا ہے۔ چاہے وہ اسکول بس ہو، سورج مکھی کا پھول یا پیلا کمرہ – ایسے افراد اس رنگ سے مکمل پرہیز کرتے ہیں۔
موبائل فون نہ ہونے کا خوف
یہ جدید دور کا سب سے عام فوبیا ہے۔ نوموفوبیا کا شکار فرد ہر وقت یہ فکر کرتا ہے کہ اس کا موبائل فون کہیں کھو نہ جائے، بیٹری ختم نہ ہو جائے یا سگنل نہ چلے جائیں۔ تحقیق کے مطابق 77 فیصد افراد دن میں 30 سے زائد بار اپنا فون چیک کرتے ہیں!








