
سینئیرجج کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعینات کرنے کامعاملہ
پنجاب بارکونسل کےممبر رانا آصف سمیت پچیس ممبران نے چیف جسٹس پاکستان کو سنیارٹی اصول برقرار رکھنے کےلئے خط لکھ دیا
سینئیرترین جج کو چیف جسٹس کےعہدے پر تعینات کرنا آئین، قانون اور عدالتی حکم ہے۔متن
ججز تقرری میں سنیارٹی کے اصول پر عمل کانہ ہوناتشویشناک ہے۔متن
سنیارٹی ہےاصول کو نظرانداز کرناعدلیہ پر عوام کے اعتماد کو ختم کر سکتا ہے۔متن
اس اقدام سے عدلیہ کی ساکھ اور قانونی حیثیت کو نقصان پہنچ سکتا ہےمتن
سنیارٹی نظرانداز ہونے سے غیر منصفانہ فیصلہ سازی اور عدالتی افراتفری کو فروغ مل سکتا ہے۔متن
اس عمل سے سیاسی مداخلت کاراستہ کھلنے اور آئینی بحران پیدا ہونے کابھی اندیشہ ہے۔متن
مضبوط آزاد اور قابل اعتماد عدلیہ کو یقینی بنانا آئین کی منشاء ہے۔متن
سنیارٹی کےاصول سے قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کاعمل موثر ہوگا۔متن
توقع رکھتے ہیں کہ آپ ماضی کی طرح سنیارٹی کے اصول کے حوالے سے اپنے موقف پر قائم رہیں گے۔متن
الجہاد ٹرسٹ کیس کافیصلہ ججوں کی تقرریوں میں سنیارٹی کے اصول پر زور دیتاہے۔متن
عدالت کی قیادت کے لیے سب سے زیادہ تجربہ کار، اہل اور سینئر کا تقرر یقینی بنایا جائے۔متن






