
لاہور ہائیکورٹ،
ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل کیخلاف سابق اہلیہ کیساتھ جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت
عدالت نے ایس ایچ او جنوبی چھائونی اور ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل کو نوٹس جاری کر دیا
جسٹس فاروق حیدر نے عنبرین سردار کی اندراج مقدمہ کی آئینی درخواست پر سماعت کی
لاہور ہائیکورٹ کا ایس ایچ او جنوبی چھائونی اور ہوم سیکرٹری پنجاب نورالامین مینگل کو 5 ستمبر کو پیش ہونے کا حکم
عنبرین سردار کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے
عنبرین سردار نے اپنے سابقہ شوہر نورالامین مینگل کیخلاف زیادتی کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی، وکیل درخواستگزار
سابقہ شوہر کا طلاق دینے بعد اسے خفیہ رکھ کر جسمانی تعلقات قائم کرنا ریپ کی تعریف میں آتا ہے، وکیل درخواستگزار
پولیس نے عنبرین سردار کی درخواست پر مقدمہ درج نہیں کیا جس کے خلاف جسٹس آف پیس کے پاس درخواست دائر کی، وکیل درخواستگزار
پولیس اور جسٹس آف پیس نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے سے انکار کر دیا، میاں دائود ایڈووکیٹ
پولیس اور جسٹس آف پیس نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اندراج مقدمہ کی درخواست مسترد کی، وکیل
پولیس کا ایف آئی آر سے پہلے وقوعہ نہ ہونے کی رائے دینا اور جسٹس آف پیس کا اس رائے سے اتفاق کرنا غیرقانونی ہے، وکیل درخواستگزار
پولیس کی رائے اور جسٹس آف پیس کا حکم سپریم کورٹ کے محمد بشیر کیس، یونس عباس کیس اور رحمان ملک کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہے، وکیل درخواستگزار
حیرانگی ہے کہ سیشن عدالت نے اپنے حکم میں سپریم کورٹ کے پیش کردی ایک بھی فیصلے کا حوالہ نہیں دیا، میاں دائود ایڈووکیٹ
سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق پولیس مقدمہ درج کرنے سے پہلے انکوائری یا تفتیش نہیں کر سکتی، میاں دائود ایڈووکیٹ
سپریم کورٹ فیصلوں کے خلاف جسٹس آف پیس نے پولیس سے انکوائری کرائی اور اس انکوائری پر انحصار کیا، میاں دائود ایڈووکیٹ
لاہور ہائیکورٹ جسٹس آف پیس کا حکم کالعدم کرکے ہوم سیکرٹری کیخلاف جنسی زیادتی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دے، استدعا









