
سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ افراد کو ٹھیکے پر دینے کیخلاف آئینی درخواست پر سماعت
عدالت نے پنجاب حکومت سے 26 ستمبر تک جواب طلب کر لیا
سرکاری سکولوں کی پرائیویٹائزیشن روکنے کی حکم امتناعی کی درخواست پر بھی نوٹس جاری
عدالت نے حکم امتناعی جاری نہ کیا تو حکومت چھٹیوں میں سکولوں کو ٹھیکے پر دے دی گئی، میاں دائود ایڈووکیٹ
پریشان نہ ہوں، اگر یہ منصوبہ غیرآئینی، ثابت ہوگیا تو یہ عدالت اسے کالعدم کرسکتی ہے، جسٹس شاہد کریم
جسٹس شاہد کریم نے صدر پنجاب ٹیچرز یونین کاشف شہزاد سمیت دیگر اساتذہ کی درخواست پر سماعت کی
سکول اساتذہ کی طرف سے میاں دائود ایڈووکیٹ پیش پوئے
پنجاب حکومت سرکاری سکولوں کو بغیر کسی قانون اور پالیسی کے ٹھیکے پر دے رہی ہے، وکیل درخواستگزار
سرکاری سکولوں کو پرائیویٹ ٹھیکے پر دینا آئین کے آرٹیکل 25 اے کی خلاف ورزی ہے، وکیل درخواستگزار
سرکاری سکول صرف ن لیگ کے سیاسی مقاصد کیلئے ٹھیکے پر دیئے جا رہے ہیں، میاں دائود ایڈووکیٹ
سرکاری سکولوں کی پرائیویٹائزیشن عوام کے اربوں روپے سیاسی افراد کو دینے کا منصوبہ ہے، میاں دائود ایڈووکیٹ
آئین اور کوئی متعلقہ قانون حکومت کو سرکاری سکولز کو پرائیویٹ کرنے کا اختیار نہیں دیتا، وکیل درخواستگزار
سرکاری سکولوں کو پرائیویٹائز کرنے کا عمل غیرآئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے، استدعا
سرکاری سکولوں کی پرائیویٹائزیشن کا عمل فوری طور پر روکنے کا حکم دیا جائے، استدعا
عدالت نے سرکاری سکولوں کی پرائیویٹائزیشن کیخلاف تمام درخواستوں کو یکجا کرنے کا حکم دیدیا









