
ہاٹ لائن نیوز : چینی، گھی سمیت اشیائے ضرورت کی قیمتوں کے تعین کا میکنزم بنانے کے کیس کی سماعت ہوئی ۔
عدالت نے قیمتوں کے تعین کے کنٹرول بارے رپورٹ طلب کرلی
عدالت نے کہا کہ بتایا جائے کہ قیمتوں کے تعین کے میکنزم کو وفاق کنٹرول کریگا یا صوبہ ؟
سرکاری وکیل نے قیمتوں کے تعین کے حوالے سے رپورٹ عدالت میں پیش کردی ۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ قیمتوں کے تعین کیلئے میکنزم کا آرڈیننس تیار کرلیا ہے، آرڈیننس گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرنے کیلئے متعلقہ اتھارٹی کو بھجوایا ہوا ہے، شیڈول میں اشیائے ضرورت کا بھی تعین کردیا گیا ہے، قیمتوں کے تعین بارے میکنزم میں وضاحت کر دی گئی ہے، قیمتوں کے تعین بارے قواعد و ضوابط بھی بنائے جائیں گے ۔
عدالت نے حکم دیا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ قیمتوں کے قواعد و ضوابط معطل نہیں ہونے چاہئے، یہ اچھی بات ہے کہ اشیائے ضرورت کی وضاحت کر دی گئی ہے، اب یہ فیصلہ کرلیں کہ قیمتوں کے تعین کے میکنزم کو وفاق نے کنٹرول کرنا ہے یا صوبے نے ، آئندہ ہفتے تک آپ اس کا تعین کرلیں تو درخواست نمٹا دی جائیگی ۔
عدالت نےسرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ عدالت کے آرڈر کو چیلنج کیا گیا ہے یا نہیں ؟
سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ عدالت کے آرڈر کو چیلنج نہیں کیا گیا ہے،
لاہور ہائیکورٹ کے سنگل بنچ نے جوڈیشل ایکٹوازم پینل سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی ، درخواستوں میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ صوبے میں اشیائے ضرورت کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار موجود نہیں،پٹرول، چینی، گھی، آٹا سمیت اشیائے ضرورت کی قیمتیں آئے روز بڑھا دی جاتی ہیں، قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار نہ ہونے سے کاروباری حضرات من مانی قیمتیں مقرر کرتے ہیں، عام شہری اشیائے ضرورت مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں، بنیادی اشیائے ضرورت سستے داموں فراہم کرنا ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے ، عدالت سے استدعا کی گئی کہ عدالت حکومت کو اشیائے ضرورت کی قیمتوں کے تعین کا میکنزم بنانے کا حکم دے ۔








