
نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج کے مریضوں کے لیے معیاری نیند دماغی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ بہتر نیند لینے والے مریضوں میں یادداشت، سوچنے سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔
سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کے محققین نے برطانیہ کے بائیو بینک میں موجود چار لاکھ سے زائد افراد کے طبی اور طرزِ زندگی سے متعلق ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔ ان میں 54 ہزار سے زیادہ افراد ذیابیطس، دل کی بیماری یا فالج جیسے امراض میں مبتلا تھے۔
تحقیق میں شرکا کی نیند کا جائزہ پانچ بنیادی پہلوؤں سے لیا گیا، جن میں نیند کا دورانیہ، سونے اور جاگنے کے اوقات، بے خوابی، خراٹے اور دن کے وقت نیند یا غنودگی شامل تھے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ بہتر نیند لینے والے مریض ذہنی صلاحیتوں کے مختلف ٹیسٹوں میں نسبتاً اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں۔ ان کی یادداشت، معلومات سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بھی بہتر پائی گئی۔
تحقیق کے دوران تقریباً 35 ہزار افراد کے دماغ کے ایم آر آئی اسکین کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ان اسکینز سے پتا چلا کہ بہتر نیند لینے والے افراد کے دماغ کا مجموعی حجم نسبتاً زیادہ تھا۔ ان کے گرے میٹر اور وائٹ میٹر کی مقدار بھی خراب نیند لینے والوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق گرے میٹر یادداشت، فیصلہ سازی اور سوچنے کے عمل میں اہمیت رکھتا ہے، جبکہ وائٹ میٹر دماغ کے مختلف حصوں کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس اور دل کی بیماریاں خون کی نالیوں اور دماغ کو متاثر کرسکتی ہیں۔ اسی طرح فالج کے نتیجے میں دماغ کے بعض حصوں کو خون کی فراہمی متاثر ہونے سے یادداشت اور دیگر ذہنی صلاحیتوں میں کمی آسکتی ہے۔
تحقیق سے وابستہ محقق ابیگیل ڈوو کے مطابق، ذیابیطس، دل کی بیماری اور فالج بڑی عمر کے افراد میں دماغی صحت متاثر ہونے کے اہم عوامل ہیں، تاہم نیند کے معیار کو بہتر بنا کر دماغی صحت کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ تحقیق 4 نومبر 2026 کو طبی جریدے جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی۔
مریضوں کے لیے اہم پیغام
ماہرین کے مطابق ذیابیطس، دل کی بیماری یا فالج کے مریضوں کو صرف ادویات اور خوراک ہی نہیں بلکہ اپنی نیند کے معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ نیند کی مسلسل خرابی، بے خوابی یا دن کے وقت غیر معمولی غنودگی کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہے۔
واضح رہے کہ تحقیق میں نیند اور دماغی صحت کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اچھی نیند ان بیماریوں کا علاج ہے یا طبی علاج کا متبادل بن سکتی ہے۔ ادویات، باقاعدہ طبی معائنے اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل بدستور ضروری ہے۔









