وہ مشروب جسے توانائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، دل کے لیے خطرہ کیسے بن رہا ہے؟

0
33
وہ مشروب جسے توانائی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، دل کے لیے خطرہ کیسے بن رہا ہے؟

انرجی ڈرنکس کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوانوں کی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ایک نئی طبی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ کیفین سے بھرپور انرجی ڈرنکس اور جسمانی توانائی بڑھانے والے سپلیمنٹس کا مسلسل استعمال دل کی سنگین بیماریوں، حتیٰ کہ اچانک حرکت قلب بند ہونے کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔

امریکا کی یونیورسٹی آف ورجینیا اسکول آف میڈیسن کے محققین نے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) میں 2017 سے 2025 کے دوران درج ہونے والی 28 ہزار سے زائد رپورٹس کا جائزہ لیا۔

تحقیق کے مطابق انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال کرنے والے افراد میں اچانک حرکت قلب بند ہونے کے واقعات کی شرح دیگر افراد کے مقابلے میں 11 گنا زیادہ دیکھی گئی۔ اسی طرح ہارٹ اٹیک کے امکانات ساڑھے چار گنا، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونے کے واقعات چار گنا اور سینے میں درد کی شکایات 2.7 گنا زیادہ رپورٹ ہوئیں۔

محققین کا کہنا ہے کہ ان مشروبات میں کیفین کی مقدار بہت زیادہ ہوسکتی ہے، جبکہ بعض توانائی بڑھانے والے سپلیمنٹس میں بھی کیفین کی غیر معمولی مقدار موجود ہوتی ہے۔ اس لیے ان کا بار بار استعمال دل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق بیشتر صحت مند بالغ افراد کے لیے روزانہ 400 ملی گرام تک کیفین قابل برداشت سمجھی جاتی ہے، تاہم ہر فرد کی جسمانی کیفیت اور کیفین برداشت کرنے کی صلاحیت مختلف ہوسکتی ہے۔

ماہرین نے خصوصاً دل کے امراض میں مبتلا افراد اور نوجوانوں کو ان مشروبات کے استعمال میں احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق انرجی ڈرنکس اور دل کی بیماریوں کے درمیان تعلق کی وجوہات جاننے کے لیے مزید سائنسی مطالعات کی ضرورت ہے۔

Leave a reply