کیا دمدار ستارے زندگی کی ابتدا کا سبب نہیں تھے؟ نئی تحقیق نے سائنس کی دنیا میں ہلچل مچا دی

0
6
کیا دمدار ستارے زندگی کی ابتدا کا سبب نہیں تھے؟ نئی تحقیق نے سائنس کی دنیا میں ہلچل مچا دی

نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف، زمین سے ٹکرانے کے دوران شدید درجہ حرارت اور دباؤ نامیاتی مرکبات کو تباہ کرسکتے تھے

زمین پر زندگی کی ابتدا سے متعلق کئی دہائیوں سے زیرِ بحث ایک سائنسی نظریے کے بارے میں نئی تحقیق نے اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق اربوں سال قبل دمدار ستاروں (Comets) کے ذریعے زندگی کی تشکیل کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات زمین تک پہنچے تھے، تاہم نئی کمپیوٹر سیمولیشنز سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان اجرامِ فلکی کی تیز رفتار ٹکروں کے باعث یہ مرکبات محفوظ حالت میں زمین تک پہنچنے کے امکانات انتہائی کم تھے۔

یہ نظریہ پین اسپرمیا (Panspermia) کے تصور سے جڑا ہے، جس کے مطابق زندگی کے بنیادی اجزا یا زندگی کی ابتدا میں معاون مادے خلا سے زمین پر پہنچ سکتے ہیں۔ سائنس دان طویل عرصے سے اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ دمدار ستارے ابتدائی زمین پر پانی اور نامیاتی مادوں کی فراہمی کا ذریعہ بنے ہوں گے۔

دمدار ستاروں سے متعلق مفروضے پر سوالات

دمدار ستارے برف، گردوغبار اور مختلف نامیاتی مرکبات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان میں ہائیڈروجن سائنائیڈ (HCN) بھی پایا جاتا ہے، جو زندگی کی ابتدا سے متعلق کیمیائی عمل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم نئی تحقیق میں شامل سائنس دانوں نے کمپیوٹر ماڈلز کے ذریعے دمدار ستاروں کے زمین سے ٹکرانے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا۔ نتائج کے مطابق ٹکراؤ کے دوران پیدا ہونے والا شدید دباؤ اور بلند درجہ حرارت نامیاتی مرکبات کی کیمیائی ساخت کو نقصان پہنچا سکتا تھا۔

تحقیق میں شامل سائنس دان اینسلو کے مطابق، ان حالات میں دمدار ستاروں کے لیے زندگی کی ابتدا میں معاون مرکبات کو اپنی اصل حالت میں زمین تک پہنچانا انتہائی مشکل تھا۔

کمپیوٹر سیمولیشنز میں کیا سامنے آیا؟

تحقیق کے دوران کیے گئے کمپیوٹر تجربات میں 54 فیصد صورتوں میں دمدار ستارے زمین سے نہیں ٹکرائے، جبکہ 46 فیصد صورتوں میں کم از کم ایک ٹکراؤ ریکارڈ کیا گیا۔ بعض حالات میں تین ٹکراؤ تک بھی دیکھے گئے۔

محققین کے مطابق ٹکراؤ کے باوجود نامیاتی مرکبات کا محفوظ رہنا کئی مخصوص حالات پر منحصر تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ دمدار ستارہ ایسے مقام پر گرے جہاں مائع پانی اور زندگی کی تشکیل میں مدد دینے والے دیگر کیمیائی اجزا بھی موجود ہوں۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر کچھ نامیاتی مادے ٹکراؤ کے بعد محفوظ رہ بھی جاتے تو ممکن ہے ان کی مقدار زندگی کی ابتدا کے لیے ناکافی ہوتی۔ سمندر میں گرنے کی صورت میں یہ مادے پانی میں پھیل کر انتہائی کم ارتکاز تک پہنچ سکتے تھے۔

زندگی کی ابتدا میں ہائیڈروجن سائنائیڈ کی اہمیت

تحقیق میں خاص طور پر ہائیڈروجن سائنائیڈ کا جائزہ لیا گیا، جو ہائیڈروجن، کاربن اور نائٹروجن سے مل کر بنتا ہے۔ یہ مرکب پانی کے ساتھ مخصوص کیمیائی تعاملات کے ذریعے امینو ایسڈز کی تشکیل میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔

امینو ایسڈز پروٹین کی بنیادی اکائیاں ہیں اور زندگی کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ یہ مرکب ہیلی اور ہیل بوپ سمیت متعدد دمدار ستاروں میں بھی دریافت کیا جاچکا ہے۔

تاہم محققین کے مطابق زندگی کی تشکیل کے لیے صرف ہائیڈروجن سائنائیڈ کافی نہیں۔ فاسفورس اور سلفر سمیت دیگر ضروری کیمیائی عناصر اور مرکبات کی دستیابی بھی اہم ہے۔

سیارچے بھی ہوسکتے ہیں نامیاتی مادوں کا ذریعہ

دمدار ستاروں کے علاوہ سائنس دان سیارچوں (Asteroids) کو بھی زمین پر زندگی کے بنیادی اجزا پہنچانے کا ممکنہ ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔

دمدار ستاروں کے مقابلے میں سیارچے عموماً نسبتاً کم رفتار سے زمین سے ٹکراتے تھے، جس سے ان میں موجود بعض نامیاتی مرکبات کے محفوظ رہنے کے امکانات بڑھ سکتے تھے۔

اس حوالے سے سیارچوں بینیو اور ریوگو سے حاصل کیے گئے نمونوں کی تحقیقات بھی اہم ہیں۔ سائنس دانوں کو ان نمونوں میں متعدد ایسے امینو ایسڈز ملے ہیں جو پروٹین کی تشکیل میں کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک دوسرا امکان یہ بھی ہے کہ ابتدائی زمین پر پہلے سے موجود کیمیائی مادوں کے درمیان قدرتی تعاملات کے نتیجے میں زندگی کے بنیادی اجزا خود زمین پر ہی تشکیل پائے ہوں۔

کیا مریخ پر زندگی کی ابتدا کے حالات بہتر تھے؟

تحقیق میں مریخ کو بھی ایک اہم امکان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق مریخ زمین کے مقابلے میں چھوٹا اور سورج سے زیادہ فاصلے پر واقع ہے، جس کے باعث وہاں دمدار ستاروں کے ٹکرانے کی رفتار نسبتاً کم ہوسکتی تھی۔

اس صورت میں ٹکراؤ کے دوران پیدا ہونے والی شدید حرارت اور دباؤ کے اثرات بھی زمین کے مقابلے میں مختلف ہوسکتے تھے۔ نتیجتاً نامیاتی مرکبات کے محفوظ رہنے کے امکانات زیادہ ہونے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

یہ امکان ماضی میں مریخ پر زندگی کی موجودگی سے متعلق تحقیقات کے لیے بھی اہم ہوسکتا ہے۔

سائنس دانوں کی مختلف آرا

اگرچہ نئی تحقیق دمدار ستاروں کے کردار کو محدود قرار دیتی ہے، لیکن بعض ماہرین کے نزدیک زندگی کی ابتدا میں ان کے ممکنہ کردار کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

رائل ہولوے یونیورسٹی لندن کی ماہرِ ارضیات کوئینی چن کے مطابق، ہائیڈروجن سائنائیڈ زمین کی فضا میں داخل ہونے سے پہلے ہی مختلف کیمیائی تعاملات سے گزر سکتا تھا، جن کے نتیجے میں ایسے مرکبات بن سکتے تھے جو نسبتاً زیادہ پائیدار ہوں۔

اسی طرح امریکی ریاست مشی گن کے البیون کالج کی پروفیسر نکول زیلنر کا کہنا ہے کہ تحقیق نے دمدار ستاروں کے ذریعے نامیاتی مادوں کی منتقلی کے امکانات اور اس عمل کی حدود کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کی ہیں۔

سائنس دانوں کے مطابق نئی تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ زمین پر زندگی کی ابتدا کا سوال ابھی حل طلب ہے۔ دمدار ستارے، سیارچے اور ابتدائی زمین پر ہونے والے قدرتی کیمیائی عمل، تینوں امکانات پر مزید تحقیق جاری رہنے کی ضرورت ہے۔

Leave a reply