تباہی کے دہانے پر موجود تین سیارے آخر کیسے بچ گئے؟

0
6
تباہی کے دہانے پر موجود تین سیارے آخر کیسے بچ گئے؟

چینی ماہرینِ فلکیات نے نظامِ شمسی سے باہر تین ایسے سیاروں کا سراغ لگایا ہے جو اپنے میزبان ستاروں کے ریڈ جائنٹ میں تبدیل ہونے کے باوجود تباہی سے محفوظ رہے۔

تحقیقی ماہرین کے مطابق یہ دریافت موجودہ فلکیاتی نظریات کے لیے ایک اہم سوال بن گئی ہے، کیونکہ سائنسی اندازوں کے تحت ان سیاروں کو اپنے ستاروں کے پھیلاؤ کے دوران ان میں ضم ہوجانا چاہیے تھا۔

یوننان یونیورسٹی کے پروفیسر چیان شینگ بانگ کی قیادت میں محققین نے 24 Boo، HD 12648 اور TYC 4282-605-1 نامی تین سیاروں کا مطالعہ کیا۔

ماہرین کے مطابق جب کسی ستارے کے مرکز میں ہائیڈروجن ایندھن ختم ہونے لگتا ہے تو وہ پھیل کر ریڈ جائنٹ کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس مرحلے پر ستارے کا حجم غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے، جس سے اس کے قریبی سیاروں کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

عام طور پر ایسے حالات میں قریبی سیارے ستارے کی بیرونی تہوں میں جذب ہوسکتے ہیں یا کششِ ثقل اور شدید حرارتی اثرات کے باعث اپنا وجود کھو سکتے ہیں۔

تاہم نئی تحقیق میں سامنے آنے والے تینوں سیارے ان خطرناک حالات کے باوجود اپنے مدار میں برقرار ہیں۔

محققین نے میزبان ستاروں کی روشنی میں ہونے والی معمولی تبدیلیوں کا جائزہ لے کر ان کی ارتقائی حالت کا تعین کیا۔ تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان سیاروں کی بقا کے پیچھے ایسے طبعی عوامل کارفرما ہوسکتے ہیں جنہیں مزید سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ پروفیسر چیان شینگ بانگ کے مطابق ایک ہی نوعیت کے تین سیاروں کا ملنا اس بات کا امکان ظاہر کرتا ہے کہ ان کی بقا کے پیچھے کوئی مشترکہ طبعی طریقہ کار موجود ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت ستاروں اور ان کے گرد گردش کرنے والے سیاروں کے ارتقا کو سمجھنے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے اور اس سے موجودہ فلکیاتی نظریات پر مزید تحقیق کی نئی راہیں کھلیں گی۔

Leave a reply