ہم پچیس کروڑ اور چار صوبے

ہم پچیس کروڑ اور چار صوبے

تحریر:ناصر سلمان

2023 ءکی ڈیجیٹل مردم شماری میں ہماری آبادی 24 کروڑ 15لاکھ کے قریب تھی۔ اقوامِ متحدہ کا اندازہ ہے کہ 2025ءکے آخر تک ہم ساڑھے 25کروڑ سے اوپر جا چکے تھے۔ آبادی میں دنیا کے پانچویں نمبر پر ہیں اور رقبہ تقریباً سات لاکھ چھیانوے ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ پنجاب کی آبادی 12کروڑ 77لاکھ ہے، جاپان سے بھی زیادہ۔ دوسری طرف بلوچستان ملک کے تقریباً 44 فیصد رقبے پر پھیلا ہے اور وہاں رہنے والے ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔ ایک طرف ہجوم، دوسری طرف میلوں پھیلا سناٹا، اور دونوں کو چلانے والا ڈھانچہ وہی جو ستر کی دہائی میں بنا تھا۔سوال صرف نئے صوبوں کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اختیار عام آدمی سے کتنی دور بیٹھا ہے۔ کیا ایک شہری کو اپنے جائز کام کیلئے ضلع، پھر صوبائی دارالحکومت، پھر اسلام آباد کے چکر لگانے چاہئیں؟

اب ان ملکوں کو دیکھیں جن کا رقبہ ہمارے آس پاس ہے: ترکیہ، چلی، موزمبیق اور نمیبیا۔ سب ساڑھے سات سے سوا آٹھ لاکھ مربع کلومیٹر کے درمیان ہیں۔ ترکیہ کی آبادی آٹھ سے ساڑھے آٹھ کروڑ ہے اور وہاں 81 صوبے اور نو سو سے زائد اضلاع ہیں۔ چلی کی آبادی دو کروڑ کے لگ بھگ ہے، مگر وہاں 16 علاقے، 56 صوبے اور 346 کمیون ہیں، اور علاقائی گورنر اور میئر ووٹ سے آتے ہیں۔ موزمبیق میں دس صوبے ہیں، دارالحکومت کو الگ صوبائی درجہ ملا ہوا ہے اور نیچے ڈیڑھ سو کے قریب اضلاع ہیں۔ نمیبیا کی آبادی تیس لاکھ کے آس پاس ہے، پھر بھی وہاں 14 علاقے اور 121 حلقے انتظام سنبھالتے ہیں۔ ان سب کے پاس ہم سے کم لوگ ہیں اور ہم سے زیادہ انتظامی اکائیاں۔ ہمارے پاس لوگ سب سے زیادہ ہیں اور صوبے چار۔یورپ میں ہمارے رقبے کا کوئی ملک نہیں۔ سب سے قریب فرانس ہے، بیرونی علاقوں سمیت ساڑھے چھ لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب، آبادی سات کروڑ کے آس پاس۔ وہاں 18 علاقے، 101 ڈیپارٹمنٹ اور تقریباً 35 ہزار کمیون ہیں۔ یوکرین 24 اوبلاستوں میں بٹا ہے اور امریکہ نے ہم سے کئی گنا بڑے رقبے کو پچاس ریاستوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ جو ملک آگے نکلے، انہوں نے فیصلے کی میز عوام کے قریب رکھی۔ایک بات صاف کر دوں۔ ہمارے ہاں بھی ڈویژن، اضلاع اور تحصیلیں موجود ہیں۔ مسئلہ کاغذ پر اکائیوں کا نہیں، ان کے اختیار کا ہے۔ جس دفتر کے پاس نہ فنڈ ہو، نہ فیصلے کا حق، نہ جواب دہی، وہ عوام کو سہولت نہیں دیتا، صرف ایک اور دروازہ بن جاتا ہے۔اپنے گھر کی بات کریں تو قومی اسمبلی کا ایک حلقہ اوسطاً نو لاکھ کے قریب لوگوں پر مشتمل ہے۔ نو لاکھ لوگوں کی گلیوں، نالیوں اور اسکولوں کی بات ایک رکن اسمبلی کہاں تک سنے گا؟ اس کا اصل کام قانون سازی اور پالیسی ہے، نالی کھلوانا نہیں۔ یہ کام بااختیار بلدیاتی نظام کا ہے۔لاہور اس کی سامنے کی مثال ہے۔ 2017 کی مردم شماری میں اس ضلع کی آبادی ایک کروڑ گیارہ لاکھ سے اوپر تھی، اب یقیناً کہیں زیادہ۔ یونین کونسلیں 2001 میں 152 تھیں، 2015 میں 274 ہوئیں۔ تحریک انصاف کے دور میں اس سے آگے جانے کی کوشش ہوئی۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2019 میں شہروں کیلئے نیبرہڈ کونسلیں اور دیہات کیلئے پنچایتیں تجویز ہوئیں۔ پنجاب کی تین ہزار سے زائد یونین کونسلوں کی جگہ بائیس ہزار کے قریب پنچایتوں کا خاکہ بنا۔ لاہور کو دو سے چار اضلاع میں بانٹنے پر کئی اعلیٰ سطحی اجلاس بھی ہوئے، جن میں میں خود شریک تھا۔ کراچی کی مثال سامنے تھی۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بھی اسی سوچ کا ایک قدم تھا، اگرچہ سیکرٹریٹ بنا دینا کافی نہیں، اسے اختیار بھی چاہیے۔ سوچ سادہ تھی کہ فیصلہ کرنے والا اور فیصلے کا شکار ہونے والا ایک دوسرے کی پہنچ میں ہوں۔ بدقسمتی سے یہ سلسلہ عدالتی فیصلوں اور سیاسی کھینچا تانی میں الجھ کر ادھورا رہ گیا۔اور جو بات لاہور یا کراچی میں شاید نبھ جائے، وہ راجن پور، اندرونِ سندھ یا گوادر میں نہیں نبھتی۔ وہاں فاصلے نقشے کی لکیریں نہیں، روزمرہ زندگی کا بوجھ ہیں۔ کوئی سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کر کے صوبائی دارالحکومت جائے تب جا کر اس کا کام ہو، تو ریاست اسے دور کی چیز ہی لگتی ہے۔

آئین ہمیں راستہ دکھاتا ہے۔ آرٹیکل 140-اے ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ مقامی حکومتیں بنائے اور انہیں سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دے۔ اس پر ہم نے کتنا عمل کیا، یہ سب جانتے ہیں۔ دوسری طرف نیا صوبہ بنانا بھی آسان نہیں۔ آرٹیکل 239 کے تحت متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت چاہیے۔ یعنی اتفاقِ رائے کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے یہ بحث جیت ہار کی نہیں، بات چیت کی ہے۔خدشات بے وجہ بھی نہیں۔ نئے دفاتر اور نئے افسر خرچ مانگتے ہیں۔ وسائل کی تقسیم کا سوال کھڑا ہو گا۔ اور اگر نئی لکیریں زبان یا برادری دیکھ کر کھینچی گئیں تو دراڑیں گہری ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے میرے نزدیک پیمانہ آبادی، فاصلہ اور انتظامی سہولت ہونا چاہیے، زبان یا نسل نہیں۔ ہمارے ہاں پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، سرائیکی، ہندکو، بلتی، شینا اور کشمیری سب ایک ہی گلدستے کے پھول ہیں۔ انتظامی حد کسی کی زبان کی حد نہیں بننی چاہیے۔ پہلا قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ضلعے اور ڈویژن چھوٹے اور بااختیار ہوں اور بلدیاتی انتخابات باقاعدگی سے ہوں۔ صوبوں پر بات اس کے بعد خود آسان ہو جائے گی۔

سیاسی جماعتوں کی اپنی ترجیحات ہیں اور اپنے اندر کی سیاست بھی۔ کوئی اپنا حلقہ بچاتا ہے، کوئی اپنا ووٹ بینک۔ مگر یہ سوال کسی ایک جماعت کا نہیں۔ اسے اتفاقِ رائے، کھلے مکالمے اور عوام سے براہِ راست بات کر کے طے ہونا چاہیے۔ ہم نے پہلے بھی کئی مسئلے “میں” کی عینک لگا کر الجھائے ہیں۔ اب” ہم” کی نظر سے دیکھنے کا وقت ہے۔ اسی سے قوم بنتی ہے اور ملک مضبوط ہوتا ہے۔ دنیا کے چیلنج بڑے ہیں، مگر مل کر ان کا مقابلہ ہو سکتا ہے، اور پاکستان کو رہنے کیلئے بہتر جگہ بنایا جا سکتا ہے۔ ساڑھے پچیس کروڑ لوگوں کی آواز جب فیصلے کی میز تک پہنچے گی، تب ریاست اجنبی نہیں لگے گی۔

ناصر سلمان کا یہ کالم روزنامہ جنگ میں 29 اکتوبر 2026 کو شائع ہوا

Leave a reply