آذربائیجانی خاتون کے مبینہ زیادتی کیس میں نیا انکشاف، بیان بدلنے کے لیے 2 کروڑ روپے کی پیشکش کا دعویٰ

لاہور: آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈیانا کے مبینہ اجتماعی زیادتی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ خاتون نے ملزمان کے حق میں بیان دینے کے لیے مبینہ طور پر 2 کروڑ روپے وصول کیے۔ تاہم ملزم کے وکیل نے کسی بھی قسم کی ڈیل میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ڈیانا نے ابتدائی بیان میں تین افراد پر اجتماعی زیادتی کا الزام لگایا تھا، جن میں احمد تنویر بھی شامل تھے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں خاتون نے احمد تنویر سمیت دیگر ملزمان کو معاف کرنے کا اعلان کیا اور مقدمہ ختم کرنے کی اپیل کی۔
ویڈیو بیان میں ڈیانا کا کہنا تھا کہ ان کے سابقہ بیانات دباؤ کا نتیجہ تھے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ خود عدالت میں پیش ہونا چاہتی تھیں، تاہم اپنی جان کو خطرہ ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد انہیں پاکستان سے روانہ کر دیا گیا۔
پولیس ذرائع کیمطابق ملزم کے اہلخانہ اور وکیل کیجانب سے خاتون سے رابطوں کے ذریعے انکو بیان تبدیل کرنے پر آمادہ کرنیکی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب احمد تنویر کےوکیل صفدر شاہین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی خاتون سے ان کی کوئی ملاقات یا فون پر بات ہوئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس معاملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر متاثرہ خاتون کو الزامات واپس لینے کے لیے رقم کی پیشکش اور ضمانت کے لیے رشوت کے الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ نظام انصاف کے لیے سنگین سوالات ہوں گے۔
ادھر لاہور کی مقامی عدالت نے احمد تنویر کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور ان کا طبی معائنہ کرانے کی ہدایت کی۔ ملزم نے عدالت میں پولیس تشدد کا الزام بھی عائد کیا، جس کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
واضح رہے کہ رقم کی ادائیگی اور دیگر الزامات تاحال دعووں کی صورت میں سامنے آئے ہیں، جن کی حتمی تصدیق عدالتی کارروائی اور مستند شواہد سے ہوگی۔









