
اسلام آباد: پاکستان نے سابق امریکی نمائندہ برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ اسلام آباد افغان طالبان کے خلاف لڑنے والے افغان شہریوں کو اسلحہ فراہم اور ان کی بھرتی کر رہا ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان الزامات کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے دعوے حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہیں۔
وزارت کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے زیرِ انتظام علاقوں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کو افغان شہریوں کی بھرتی یا مسلح گروہوں کی معاونت سے جوڑنا درست نہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے طویل عرصے سے کوششیں کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے بھاری جانی و مالی قربانیاں بھی دے چکا ہے۔
پاکستانی حکام نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستان کا یہ ردِعمل زلمے خلیل زاد کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ پاکستان افغان طالبان کے خلاف مزاحمت کرنے والے افغانوں کو مسلح کرنے اور ان کی بھرتی میں ملوث ہے۔ ان کے مطابق ایسی سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ ان الزامات کے ذریعے افغان طالبان حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سکیورٹی معاملات پر اختلافات ایک اہم علاقائی مسئلہ بنے ہوئے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے لیے سرحدی سلامتی اور دہشت گردی سے متعلق خدشات کا حل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔









