ایرانی ایجنٹس کی ممکنہ موجودگی کا دعویٰ، امریکا میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

0
38
ایرانی ایجنٹس کی ممکنہ موجودگی کا دعویٰ، امریکا میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے

واشنگٹن: امریکی حکام نے ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور دیگر خطوں میں امریکی سفارت کاروں اور سرکاری عہدیداروں کو ممکنہ طور پر نشانہ بنانے کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جس کے بعد خطے میں امریکی سفارتی عملے کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ خارجہ نے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مشرقِ وسطیٰ میں قائم چار امریکی سفارت خانوں سے غیر ضروری عملے کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم ان سفارت خانوں میں معمول کی سفارتی سرگرمیاں محدود پیمانے پر جاری رہیں گی۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس ادارے ایران سے متعلق سیکیورٹی خطرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت اعلیٰ حکام کو صورتِ حال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس حکام نے ایران کی جانب سے امریکی شہریوں اور سفارتی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ ان خدشات کا تعلق مشرقِ وسطیٰ کے علاوہ یورپ اور دیگر علاقوں میں امریکی مفادات کو درپیش ممکنہ خطرات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ ایران سے وابستہ عناصر امریکا کے اندر موجود ہو سکتے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اور ان عناصر کی عملی صلاحیت سے متعلق تفصیلات واضح نہیں ہیں۔

دوسری جانب، ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے ممکنہ عزائم اور عملی طور پر حملہ کرنے کی صلاحیت میں فرق موجود ہے۔

امریکی حکام خطے میں سفارتی مشنز اور دیگر تنصیبات کے تحفظ کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے ان مبینہ منصوبوں اور الزامات پر کوئی مستند ردعمل اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔

نوٹ: ایرانی ایجنٹس کی موجودگی اور حملوں کے مبینہ منصوبوں سے متعلق معلومات امریکی حکام اور میڈیا رپورٹس سے منسوب ہیں؛ ان دعوؤں کو حتمی طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔

Leave a reply