
اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں جاں بحق ہونے والی طالبہ لائبہ اعجاز کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور جعل سازی کے ذریعے ہتھیائی گئی رقم میں سے 51 لاکھ روپے ان کے حوالے کردیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے بدھ کے روز اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں لائبہ اعجاز کے گھر جا کر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اس موقع پر مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
ملاقات کے دوران محسن نقوی نے اہل خانہ کو مقدمے میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور یقین دہانی کرائی کہ باقی رقم کی واپسی کے لیے بھی جلد اقدامات کیے جائیں گے۔
اس موقع پر چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور دیگر متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔
لائبہ اعجاز کے والد نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ماں جیسا ہونے کی بات تو سنی تھی، تاہم اب انہیں اس بات کا عملی احساس ہوا ہے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ لائبہ اعجاز کا معاملہ حساس ہے، اس لیے فی الحال اس کی تفصیلات سامنے نہیں لانا چاہتے۔ ان کے مطابق متعلقہ ٹیم نے کیس پر دن رات کام کیا اور اہل خانہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔
واضح رہے کہ وزیر داخلہ نے باقی رقم بھی جلد واپس دلانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔







