مریم نواز کا ستھرا پنجاب

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ستھرا پنجاب منصوبہ محض صفائی کا ایک سرکاری پروگرام نہیں، بلکہ ایک خوبصورت، صحت مند اور باوقار پنجاب کی تعمیر کا خواب ہے۔ مریم نواز ایک خاتون ہیں، پنجاب کی بیٹی ہیں اور اس دھرتی سے ان کی نسبت صرف انتظامی ذمہ داری تک محدود نہیں۔ جس طرح ایک بیٹی اپنے گھر کو صاف ستھرا، خوبصورت اور ترتیب سے سجا ہوا دیکھنا چاہتی ہے، اسی طرح مریم نواز بھی اپنے پنجاب کو صاف، سرسبز اور خوبصورت دیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ان کا یہ جذبہ قابلِ تحسین ہے کہ صوبے کے ہر شہر، قصبے، گاؤں، گلی اور محلے کے شہری کو صاف ستھرا ماحول میسر ہو۔
ستھرا پنجاب منصوبے کی عالمی سطح پر پذیرائی بھی پنجاب کے لیے باعثِ فخر ہے۔ دنیا کے معروف میڈیا اداروں کی جانب سے اس منصوبے کو اجاگر کیا جانا اس بات کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے کہ صفائی جیسے بنیادی عوامی مسئلے کو جدید انتظامی حکمتِ عملی کے ذریعے کس طرح ایک بڑے ترقیاتی اقدام میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا میں اس منصوبے کا ذکر اور بیرونِ ملک اس ماڈل سے رہنمائی لینے کی مثالیں پنجاب کی مثبت شناخت کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ وزیراعلیٰ کے وژن کے لیے حوصلہ افزا پیش رفت ہے کہ پنجاب کا ایک عوامی منصوبہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پذیرائی کو مستقل کامیابی میں بدلا جائے، تاکہ ستھرا پنجاب صرف خبروں میں نہیں بلکہ اپنی عملی کارکردگی کے ذریعے بھی دنیا کے لیے قابلِ تقلید مثال بنے۔
صفائی کا براہِ راست تعلق انسانی صحت، شہری زندگی کے معیار اور ماحولیاتی تحفظ سے ہے۔ کوڑے کے ڈھیر، گندگی سے بھری گلیاں اور ناقص صفائی کا نظام نہ صرف شہروں کی خوبصورتی متاثر کرتے ہیں بلکہ بیماریوں اور ماحولیاتی مسائل کا سبب بھی بنتے ہیں۔ ستھرا پنجاب کے ذریعے ان مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے، جدید مشینری استعمال کرنے، صفائی کے عملے کو متحرک رکھنے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مریم نواز شریف کے اس وژن کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبے کی کارکردگی مسلسل بہتر ہو، سرکاری وسائل درست استعمال کیے جائیں اور نگرانی کا نظام شفاف رکھا جائے۔ صفائی کا نظام وقتی مہمات سے کامیاب نہیں ہوتا؛ اس کے لیے مستقل محنت، مؤثر انتظام، مالی شفافیت اور جواب دہی ناگزیر ہیں۔ جہاں اچھا کام ہو، وہاں حوصلہ افزائی کی جائے اور جہاں غفلت یا بے ضابطگی سامنے آئے، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
کسی بھی بڑے عوامی منصوبے میں نگرانی کرنے والے اداروں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ کارکردگی کی جانچ کریں، مالی معاملات پر نظر رکھیں اور کسی بھی ممکنہ بے ضابطگی کی بروقت نشاندہی کریں۔ اگر نگرانی کا نظام خود سوالات کی زد میں آ جائے تو اس کی غیرجانبدارانہ جانچ ضروری ہو جاتی ہے، کیونکہ جواب دہی صرف ماتحت عملے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر سطح پر یکساں ہونی چاہیے۔
حکومت کو ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں افسران میرٹ اور دیانت داری کے ساتھ کام کر سکیں، قومی خزانے کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور کسی غیرضروری دباؤ کے بغیر اپنے فرائض انجام دیں۔ اگر کوئی افسر بدعنوانی کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کے مؤقف کو سنجیدگی سے لیا جائے، شواہد کی جانچ کی جائے اور معاملے کو ذاتی یا گروہی تنازعے کے بجائے ادارہ جاتی طریقے سے حل کیا جائے۔
فیصل آباد میں سابق ایم ڈی عابد حسین بھٹی اور مانیٹرنگ کے نظام سے متعلق سامنے آنے والے معاملات اسی تناظر میں خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں۔ عابد حسین بھٹی کے حوالے سے مؤقف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، بااثر عناصر کا مقابلہ کیا اور سرکاری خزانے کو نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کیے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ اس جدوجہد کے دوران انہیں خطرات کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید الزامات کے مطابق، بعض عناصر سرکاری خزانے کو ماہانہ تقریباً 75 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا رہے تھے، جبکہ 7 سے 8 کروڑ روپے ماہانہ مختلف بااثر افراد کو مبینہ طور پر پروٹیکشن منی کے طور پر دیے جاتے تھے۔ ان سنگین دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات اور مالی ریکارڈ کا خصوصی آڈٹ ضروری ہے۔ اسی طرح یہ تاثر بھی سامنے آیا ہے کہ مانیٹرنگ کے نظام سے وابستہ بعض افراد مبینہ طور پر ایسے عناصر کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں جن کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے۔ اس تاثر کی بھی غیرجانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے۔ عابد حسین بھٹی کی تبدیلی کے اسباب واضح کیے جائیں، مانیٹرنگ ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے اور تمام فیصلے شواہد کی بنیاد پر کیے جائیں۔ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ دیانت داری سے قومی خزانے کی حفاظت کرنے والے افسران کو تحفظ اور حوصلہ افزائی فراہم کی جائے۔ کسی بھی مفاداتی گروہ کو دوبارہ سرکاری وسائل پر ناجائز اثرورسوخ قائم کرنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے۔
مریم نواز شریف کے وژن کی کامیابی کا تقاضا ہے کہ ستھرا پنجاب میں مالی معاملات شفاف ہوں، نگرانی کا نظام مضبوط ہو اور احتساب بلاامتیاز کیا جائے۔ فیصل آباد کے معاملے کو محض انتظامی تبدیلی تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں، تاکہ حقائق سامنے آئیں اور مستقبل میں عوامی وسائل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا راستہ روکا جا سکے۔
پنجاب کی بیٹی کا اپنے صوبے کو خوبصورت دیکھنے کا خواب اسی وقت حقیقت بنے گا جب صاف سڑکوں اور گلیوں کے ساتھ انتظامی نظام بھی شفاف ہو۔ عالمی سطح پر حاصل ہونے والی پذیرائی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ منصوبے کی خامیوں کو دور کیا جائے، دیانت دار افسران کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ہر اس عنصر کے خلاف کارروائی ہو جو عوامی مفادات کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔
صاف پنجاب صرف صاف سڑکوں اور گلیوں کا نام نہیں؛ یہ شفاف نظام، محفوظ عوامی وسائل اور منصفانہ احتساب کا نام بھی ہے۔ سرکاری خزانہ عوام کی امانت ہے، اس کی حفاظت کرنے والوں کو تحفظ اور اس میں خیانت کرنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ یہی انصاف، اچھی حکمرانی اور ستھرا پنجاب کے وژن کی اصل روح ہے۔









