یمن: عدن میں صدارتی محل پر حوثیوں کا میزائل حملہ، وزیراعظم اور کابینہ محفوظ

عدن: یمن کے جنوبی شہر عدن میں صدارتی محل کے احاطے پر حوثی باغیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں دو سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ وزیراعظم شایع الزندانی اور کابینہ کے دیگر ارکان محفوظ رہے۔
یمنی وزیر اطلاعات معمر الاریانی کے مطابق حوثیوں نے صدارتی محل المعاشیق کو پانچ میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ حملے کے وقت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محل میں موجود تھے، تاہم انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سبا کے مطابق حملے کا ہدف صدارتی محل کے احاطے میں قائم فوجی آپریشنز کا ہیڈکوارٹر اور اسلحے کا گودام تھا، جہاں سعودی افسران بھی تعینات ہیں۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے حملے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت یافتہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانا ان کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حملے سے قبل تین عینی شاہدین نے صدارتی محل کے اطراف زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی تصدیق کی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں دو سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوئے، تاہم وزیراعظم اور کابینہ کے ارکان محفوظ رہے۔
یمن میں اقتدار کی تقسیم
یمن میں کئی برس سے جاری تنازع کے باعث ملک مختلف قوتوں کے زیر اثر ہے۔ حوثی گروپ دارالحکومت صنعاء سمیت شمال مغربی علاقوں کے بڑے حصے پر قابض ہے، جبکہ جنوبی اور مشرقی علاقوں میں صدارتی قیادت کونسل کی حمایت یافتہ حکومت سرگرم ہے۔
سعودی عرب اس حکومت کی حمایت کرتا ہے، جس نے صنعاء پر حوثیوں کے قبضے کے بعد عدن کو اپنا عارضی دارالحکومت بنا رکھا ہے۔ صدارتی محل پر تازہ حملہ ملک میں جاری سیاسی اور عسکری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔









