انجریز کو شکست دے کر نسیم شاہ کی دھماکے دار واپسی، اب اگلا ہدف کیا؟

0
24
انجریز کو شکست دے کر نسیم شاہ کی دھماکے دار واپسی، اب اگلا ہدف کیا؟

پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ ان کے کرکٹ کیریئر کا بہترین دور ابھی آنا باقی ہے۔ وہ تجربے، پختگی اور انجریز سے محفوظ رہنے کو اپنی کارکردگی میں بہتری کے لیے بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو دیے گئے ایک انٹرویو میں نسیم شاہ نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ کھلاڑی کی سوچ اور کھیل کو سمجھنے کا انداز تبدیل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق صرف تیز رفتار بولنگ کافی نہیں، بلکہ یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ہر گیند کے ذریعے کس حکمت عملی پر عمل کرنا ہے۔

انجریز نے بہت کچھ سکھایا

نسیم شاہ کے بین الاقوامی کیریئر کو انجریز کے باعث کئی مرتبہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ انجری کے بعد میدان میں واپسی آسان نہیں ہوتی اور کھلاڑی کو بعض اوقات بنیادی فٹنس اور ٹریننگ سے دوبارہ آغاز کرنا پڑتا ہے۔

فاسٹ بولر کے مطابق بحالی کے لیے مناسب منصوبہ بندی، جسمانی کیفیت کو سمجھنا اور ماہر طبی عملے کی مدد انتہائی ضروری ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کھلاڑی کو اپنے جسم کی ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔

راولپنڈی میں یادگار واپسی

نسیم شاہ نے تقریباً سات ماہ بعد قومی ٹیم میں واپسی کرتے ہوئے سری لنکا کے خلاف پہلے ٹی20 میچ میں تین وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے چار اوورز میں 36 رنز دیے اور اہم مواقع پر حریف بلے بازوں کو پویلین واپس بھیجا۔

انہوں نے اپنی تیز رفتار بولنگ سے بھی متاثر کیا۔ میچ کے دوران ان کی گیند کی رفتار 141.9 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جبکہ آخری اوورز میں دو اہم وکٹیں حاصل کرکے سری لنکا کی رنز بنانے کی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔

دوسرے ٹی20 میچ میں اگرچہ وہ کوئی وکٹ حاصل نہ کرسکے، تاہم پاور پلے کے دوران ان کی نپی تلی بولنگ نے حریف ٹیم کو دباؤ میں رکھا۔

کم عمری میں عالمی سطح پر پہچان

نسیم شاہ نے فروری 2020 میں راولپنڈی میں بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ میچ میں ہیٹ ٹرک کرکے تاریخ رقم کی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 16 سال اور 359 دن تھی، جس کے باعث وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک کرنے والے کم عمر ترین بولر بنے۔

ان کے کیریئر میں 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ سے باہر ہونا بھی ایک اہم مرحلہ رہا، جبکہ حال ہی میں پاکستان سپر لیگ 2026 کے دوران کمر کی انجری نے انہیں ٹورنامنٹ سے الگ ہونے پر مجبور کیا۔

وائٹ بال کرکٹ میں مسلسل بہتری کی ضرورت

نسیم شاہ کے مطابق جدید کرکٹ میں فاسٹ بولرز کے لیے چیلنجز بڑھ چکے ہیں۔ مختلف پچز، جارحانہ بیٹنگ اور بڑے اسکور کے رجحان کے باعث بولرز کو اپنی مہارت بہتر بنانے کے ساتھ بلے بازوں کی حکمت عملی بھی سمجھنا پڑتی ہے۔

انہوں نے اپنے مستقبل کے اہداف پر بات کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سمیت اپنے کھیل کے کئی پہلوؤں میں مزید بہتری لا سکتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے پہچانے جائیں اور انہیں اپنے اہداف کے بارے میں زیادہ بات کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔

ون ڈے کرکٹ میں نمایاں ریکارڈ

نسیم شاہ اب تک 34 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں 60 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔ اس فارمیٹ میں ان کی بولنگ اوسط 25.91 ہے، جبکہ اسٹرائیک ریٹ 28.3 رہا ہے۔

اگست 2022 میں نیدرلینڈز کے خلاف انہوں نے 33 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جنوری 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 57 رنز کے عوض پانچ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یوں وہ مسلسل دو ون ڈے میچز میں پانچ، پانچ وکٹیں لینے والے پاکستانی بولرز کی فہرست میں شامل ہوگئے۔

نسیم شاہ کا کہنا ہے کہ انجریز سے محفوظ رہنے اور بولنگ میں ردھم برقرار رکھنے سے ان کی کارکردگی میں مزید نکھار آسکتا ہے۔ ان کی نظریں مستقبل کے بین الاقوامی مقابلوں اور 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ پر ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا چاہتے ہیں۔

Leave a reply