مذاکرات اتفاق رائے کے قریب پہنچ کر ناکام ہوئے، گورنر راج ناگزیر ہوگیا: وزیراعظم

0
29
مذاکرات اتفاق رائے کے قریب پہنچ کر ناکام ہوئے، گورنر راج ناگزیر ہوگیا: وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ معاملات بہتر بنانے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود اختلافات ختم نہ ہوسکے، جس کے بعد گورنر راج کا فیصلہ کرنا پڑا۔

مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکرات کے دوران کئی امور پر اتفاق رائے کے قریب پہنچنے کے بعد بھی بات آگے نہ بڑھ سکی۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے وفد نے آخری مرحلے پر صوبائی قیادت سے مشاورت کی ضرورت ظاہر کی، جس سے مذاکرات کا عمل متاثر ہوا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے صورتحال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی تھی اور اسی تناظر میں گورنر راج کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم نے بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی وفاقی حکومت کی جانب سے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، جبکہ سہیل آفریدی سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے ملک میں امن اور خوشحالی کے لیے طویل عرصے سے قربانیاں دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے سیاسی قیادت اور عوام کی کوششوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

Leave a reply