مراقبہ ہر کسی کے لیے یکساں مفید نہیں، بعض افراد میں ذہنی بے چینی بڑھنے کا خدشہ

0
15
مراقبہ ہر کسی کے لیے یکساں مفید نہیں، بعض افراد میں ذہنی بے چینی بڑھنے کا خدشہ

 مراقبہ ذہنی سکون حاصل کرنے اور روزمرہ کے دباؤ کو کم کرنے کا ایک عام طریقہ ہے، تاہم بعض افراد کو اس کے دوران یا بعد میں بے چینی، اداسی اور نیند کی خرابی جیسے مسائل پیش آ سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق خاموشی میں بیٹھ کر اپنے خیالات اور جذبات پر توجہ مرکوز کرنے سے بعض اوقات ماضی کے ناخوش گوار واقعات اور پریشان کن یادیں دوبارہ ذہن میں آ سکتی ہیں۔ خاص طور پر ذہنی دباؤ یا تکلیف دہ تجربات سے گزرنے والے افراد کو مراقبے کے دوران مشکلات پیش آنے کا امکان ہوتا ہے۔

بے چینی اور گھبراہٹ

کچھ لوگوں کو مراقبہ کرتے ہوئے سکون کے بجائے بے قراری، گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسی صورت میں خود کو زبردستی مراقبہ جاری رکھنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے بلکہ کچھ دیر وقفہ لے لینا بہتر ہے۔

چکر آنے اور جسمانی درد کی وجوہات

مراقبے کے دوران تیز یاپھرغیر ضروری طور پر گہری سانسیں لینے کیوجہ سےچکر آنے اور سر ہلکا محسوس ہونیکا امکان بڑھ سکتا ہے۔ اسطرح طویل وقت تک ایک ہی انداز میں بیٹھنے کیوجہ سے گردن، کمر اورکندھوں میں درد یا ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔ آرام دہ نشست اختیار کرنے اور قدرتی انداز میں سانس لینے سے ان مسائل سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اداسی اور نیند کی خرابی

مراقبے کے دوران بعض افراد کو پرانی یادیں تازہ ہونے کے باعث اداسی یا رونے کی کیفیت محسوس ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب کچھ لوگوں کو مراقبے کے بعد ذہنی چوکنا پن بڑھنے کی وجہ سے رات کو نیند آنے میں دشواری پیش آتی ہے۔

محفوظ طریقے سے مراقبہ کیسے کریں؟

مراقبے کا آغاز روزانہ 5 سے دس منٹ سے کیاجا سکتا ہے۔ آرام دہ جگہ پر بیٹھ جائیں، سانس کو زبردستی قابو کرنےسے گریزکریں اور اپنی ذہنی و جسمانی کیفیت پر توجہ دیں۔ اگر مراقبے سے بے چینی یا تکلیف بڑھنے لگے تو اسے روک دیں۔

اگر شدید اداسی، مسلسل بے خوابی، بار بار چکر آنے یا غیر معمولی ذہنی کیفیت کا سامنا ہو تو ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے ماہر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

مراقبہ بہت سے افراد کے لیے مفید ہو سکتا ہے، لیکن اس کے طریقے اور دورانیے کا انتخاب اپنی کیفیت کے مطابق کرنا ضروری ہے۔

Leave a reply