پاکستان کس کے لیے؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں خواب بہت بڑے دیکھے جاتے ہیں، وعدے بہت کیے جاتے ہیں، تقریریں بہت ہوتی ہیں، مگر عام آدمی کی زندگی کا سوال آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں کئی دہائیاں پہلے تھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وقت کے ساتھ مشکلات کی شکل بدل گئی ہے اور عام شہری کی پریشانی پہلے سے زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اقتدار میں کون ہے؟ سوال یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد عام آدمی کے لیے کیا بدلا؟
ہر حکومت عوام کو ریلیف دینے، معیشت بہتر کرنے، روزگار پیدا کرنے اور مہنگائی کم کرنے کے دعوے کے ساتھ آتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوں تو عوام کے دکھ درد کی سب سے بڑی ترجمان بن جاتی ہیں، لیکن اقتدار ملتے ہی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ پھر عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے، مزید ٹیکس لگتے ہیں، بجلی اور پٹرول کے نرخ بڑھتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔
سوال یہ ہے کہ مشکل دور ہمیشہ صرف عوام ہی کیوں برداشت کرتے ہیں؟
ایک مزدور کے گھر کا بجٹ خراب ہو جائے تو وہ اپنے بچوں کی خواہشات کم کرتا ہے۔ متوسط طبقہ اپنی ضروریات محدود کرتا ہے۔ نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ لیکن ریاستی نظام کے بڑے حصے میں اخراجات، مراعات اور پروٹوکول کی دنیا الگ ہی دکھائی دیتی ہے۔
یہی فرق عوام کے دل میں سب سے زیادہ بے چینی پیدا کرتا ہے۔
پاکستان کا عام شہری ٹیکس دیتا ہے۔ وہ پٹرول پر ٹیکس دیتا ہے، بجلی کے بل میں ٹیکس دیتا ہے، موبائل استعمال کرے تو ٹیکس دیتا ہے، خریداری کرے تو ٹیکس دیتا ہے۔ لیکن جب وہ بدلے میں بنیادی سہولتیں مانگتا ہے تو اسے ایک طویل انتظار، ناقص نظام اور مختلف محکموں کے چکر ملتے ہیں۔
ہمیں یہ سوال ضرور پوچھنا ہوگا کہ ٹیکس دینے والے شہری کو ریاست کیا واپس دے رہی ہے؟
کیا ہر بچے کو معیاری تعلیم مل رہی ہے؟
کیا ہر شہری کو مناسب علاج میسر ہے؟
کیا نوجوان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں؟
کیا عام خاندان کو صاف پانی، بجلی اور گیس جیسی بنیادی سہولتیں بلا تعطل مل رہی ہیں؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا ایک عام پاکستانی کو یہ احساس ہے کہ ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے؟
آج پاکستان کا نوجوان صرف نوکری نہیں ڈھونڈ رہا، وہ مستقبل ڈھونڈ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے نوجوان بیرونِ ملک مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ کوئی خلیج کا رخ کرتا ہے، کوئی یورپ جانے کی کوشش کرتا ہے اور کوئی اپنی تعلیم مکمل کرکے دوسرے ملک میں مستقل مستقبل بنانے کا خواب دیکھتا ہے۔
یہ صورتحال صرف ہجرت نہیں، ایک سوالیہ نشان ہے۔
اگر ایک نوجوان اپنے ملک میں اپنی محنت کا مستقبل نہیں دیکھتا تو ہمیں صرف نوجوان کو قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہم نے ایسا ماحول کیوں پیدا کیا جہاں اپنے ملک میں رہنے کے بجائے باہر جانا زیادہ پرکشش محسوس ہوتا ہے؟
دوسری طرف سیاسی میدان میں جنگ مسلسل جاری ہے۔ ایک حکومت دوسری جماعت کو ذمہ دار قرار دیتی ہے، اپوزیشن حکومت کو ناکام کہتی ہے، ہر فریق کے پاس اپنے دلائل ہیں اور ہر فریق عوام کے نام پر سیاست کرتا ہے۔
لیکن اس سیاسی کشمکش میں عوام کہاں ہیں؟
عوام کو سیاسی نعروں سے زیادہ آٹا، بجلی، روزگار، تعلیم، علاج اور امن چاہیے۔ انہیں ایسی سیاست چاہیے جو ان کی زندگی آسان کرے، نہ کہ ایسی سیاست جس میں ہر روز ایک نیا محاذ کھول دیا جائے۔
جمہوریت کا حسن اختلاف میں ہے، مگر اختلاف اگر مستقل محاذ آرائی بن جائے تو اس کا نقصان ریاستی اداروں، معیشت اور بالآخر عوام کو ہوتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں۔ نہ یہ کسی ایک حکومت کا ہے، نہ کسی ایک ادارے کا۔ پاکستان ان کروڑوں لوگوں کا ہے جو ہر صبح کام کی تلاش میں نکلتے ہیں، جو چھوٹی چھوٹی دکانیں چلاتے ہیں، جو رکشہ چلاتے ہیں، جو فیکٹریوں میں مزدوری کرتے ہیں، جو اسکولوں اور کالجوں میں پڑھاتے ہیں، جو اسپتالوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کرتے ہیں۔
یہی لوگ پاکستان کی اصل طاقت ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست کا مرکز اقتدار کی کرسی کے بجائے عوام کو بنایا جائے۔
حکومتیں آتی جاتی رہیں گی۔ سیاسی جماعتیں بدلتی رہیں گی۔ بیانات بدلتے رہیں گے۔ مگر پاکستان تب بدلے گا جب عام آدمی کی زندگی بدلے گی۔
ہمیں ایسی معیشت چاہیے جہاں کاروبار کرنا آسان ہو، ایسی تعلیم چاہیے جو نوجوان کو روزگار کے قابل بنائے، ایسا نظامِ صحت چاہیے جہاں غریب علاج کے لیے اپنی جمع پونجی ختم نہ کرے، اور ایسا انتظامی نظام چاہیے جہاں عام شہری کی عزت اس کی حیثیت دیکھ کر نہ کی جائے۔
پاکستان کو آج کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک نئے رویے کی ضرورت ہے۔
حکمران یہ سمجھیں کہ عوام صرف ووٹ نہیں ہوتے۔
عوام وہ لوگ ہیں جن کے ٹیکس سے ریاست چلتی ہے، جن کی محنت سے بازار آباد ہوتے ہیں، جن کے بچوں سے ملک کا مستقبل بنتا ہے۔
اور عوام کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تبدیلی صرف حکومت بدلنے سے نہیں آتی۔ تبدیلی اس وقت آتی ہے جب معاشرہ اپنے سوال بدلتا ہے، اپنی ترجیحات بدلتا ہے اور اپنے نمائندوں سے جواب مانگتا ہے۔
آج سب سے اہم سوال یہی ہے:
پاکستان کس کے لیے؟
اگر جواب عوام ہیں، تو پھر ریاست کی ہر پالیسی، ہر بجٹ، ہر منصوبہ اور ہر فیصلہ بھی عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے ہونا چاہیے۔
کیونکہ آخرکار حکومتوں کی کامیابی کا پیمانہ تقریروں کی تعداد نہیں، بلکہ اس عام پاکستانی کے چہرے پر نظر آنے والی آسودگی ہے جو آج بھی اپنے ملک سے محبت کرتا ہے، مگر اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہے۔
پاکستان کو صرف چلانا نہیں، سنوارنا ہوگا۔
اور یہ کام کسی ایک شخص کا نہیں، ہم سب کا ہے۔









