
راولپنڈی: اڈیالا جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے حالیہ طبی معائنے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق ڈاکٹروں نے ان کی ذہنی کیفیت اور بلڈ پریشر کو بہتر بنانے کے لیے ادویات کے ساتھ طرزِ زندگی میں بھی تبدیلی کی تجویز دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ چار سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل ٹیم نے کیا، جس میں ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر فرقاد عالمگیر، ڈاکٹر عارف خان، ڈاکٹر اختر علی بندیشہ اور ڈاکٹر علی عارف شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر فرقاد عالمگیر کو خصوصی طور پر بیرون ملک سے طبی معائنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ معائنے کے دوران عمران خان کے بلڈ پریشر کی دوا میں بھی تبدیلی کی گئی۔
طبی رپورٹ میں ذہنی دباؤ اور بے چینی کی کیفیت کو بھی قابلِ توجہ قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے بلڈ پریشر اور ذہنی تناؤ کو قابو میں رکھنے کے لیے روزانہ کم از کم ایک گھنٹے کی واک کی سفارش کی ہے۔
میڈیکل ٹیم نے ذہنی دباؤ کم کرنے کے لیے عمران خان کو اہل خانہ سے زیادہ باقاعدگی سے ملاقات کا موقع دینے کی بھی تجویز دی۔ اس کے علاوہ اخبارات، ٹی وی اور کتابوں تک رسائی کو بھی ان کی ذہنی صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں بالخصوص اہلیہ سے ملاقاتوں کی تعداد اور دورانیہ بڑھانے کی سفارش سامنے آئی ہے، جس کا مقصد طویل تنہائی کے ممکنہ ذہنی اثرات کو کم کرنا بتایا گیا ہے۔
انزائٹی کا ’لیول تھری‘ کیا ظاہر کرتا ہے؟
ذہنی صحت کے حوالے سے مختلف ادارے اور ماہرین بے چینی کی شدت کو مختلف پیمانوں سے بیان کرتے ہیں، اس لیے ’لیول تھری پلس‘ کو ایک عالمگیر یا باقاعدہ طبی تشخیصی درجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
تاہم عمومی طور پر شدید درجے کی انزائٹی میں مریض کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، بے چینی، چکر، تھکن، سینے میں دباؤ، معدے کی تکلیف اور توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جیسی علامات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
شدید گھبراہٹ کی صورت میں سوچنے اور معمول کے کام انجام دینے کی صلاحیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ اگر علامات بہت زیادہ بڑھ جائیں تو پینک اٹیک جیسی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔
عمران خان کے معاملے میں ڈاکٹروں کی جانب سے واک، مطالعے اور اہل خانہ سے رابطے بڑھانے کی سفارش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طبی نگہداشت کے ساتھ ان کے ماحول اور روزمرہ معمولات کو بھی ذہنی سکون کے لیے اہم سمجھا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کسی فرد کی ذہنی صحت کی حتمی کیفیت کا تعین صرف مستند طبی معائنے اور متعلقہ ماہرین کی تشخیص سے ہی کیا جاسکتا ہے۔








