پراٹھے پر گھی لگائیں یا مکھن؟ ایسا جواب جو آپ کو حیران کر دے گا

0
13
پراٹھے پر گھی لگائیں یا مکھن؟ ایسا جواب جو آپ کو حیران کر دے گا

پراٹھا پاکستانی اور دیگر جنوبی ایشیائی گھروں کے ناشتے کا مقبول حصہ ہے، تاہم اسے پکانے کے لیے گھی، تیل یا مکھن میں سے کیا بہتر ہے؟ صحت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سوال کا جواب صرف کسی ایک چکنائی کو بہتر قرار دینے سے نہیں دیا جا سکتا، بلکہ مقدار اور مجموعی خوراک بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
گھی کا استعمال
دیسی گھی پراٹھے کو خوشبو، ذائقہ اور کرکرا پن دیتا ہے، لیکن اس میں سیر شدہ چکنائی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے زیادہ مقدار میں گھی کا مسلسل استعمال ان افراد کے لیے مناسب نہیں جو کولیسٹرول، دل کی صحت یا وزن کے مسائل سے دوچار ہیں۔
کبھی کبھار پراٹھا کھانے کی صورت میں محدود مقدار میں گھی استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اسے روزانہ زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے گریز بہتر ہے۔
تیل بھی ایک آپشن ہے
ماہرین کے مطابق تیل کا انتخاب کرتے وقت اس کی قسم کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ایسے تیل جن میں غیر سیر شدہ چکنائی زیادہ ہو، عام طور پر بہتر انتخاب سمجھے جاتے ہیں۔
کینولا، سویا بین، سرسوں اور زیتون کے تیل مختلف کھانوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ تاہم یہ بات بھی اہم ہے کہ تیل نسبتاً ہلکا محسوس ہونے کے باوجود کیلوریز سے بھرپور ہوتا ہے، اس لیے مقدار پر نظر رکھنا ضروری ہے۔
مکھن کا ذائقہ، مگر اعتدال ضروری
مکھن گرم پراٹھے کے ساتھ بہت سے لوگوں کی پسند ہے، لیکن اس میں بھی سیر شدہ چکنائی قابلِ ذکر مقدار میں موجود ہوتی ہے۔ اگر مکھن پسند ہو تو پراٹھا کم مقدار میں تیل سے پکانے کے بعد تھوڑا سا مکھن اوپر لگایا جا سکتا ہے۔
روزانہ زیادہ مقدار میں مکھن استعمال کرنا صحت کے لیے مناسب انتخاب نہیں سمجھا جاتا۔
اصل اہمیت مقدار کی ہے
پراٹھے میں استعمال ہونے والی چکنائی جتنی زیادہ ہوگی، اس کی مجموعی کیلوریز بھی اتنی ہی بڑھیں گی۔ اس لیے صحت مند انتخاب کا مطلب صرف گھی کو تیل یا مکھن سے بدلنا نہیں، بلکہ مجموعی طور پر چکنائی کی مقدار کم رکھنا بھی ہے۔
اگر کوئی شخص باقاعدگی سے پراٹھا کھاتا ہے تو اسے کم چکنائی استعمال کرنے کے ساتھ پراٹھے کے ساتھ دہی، سبزی، دال یا پروٹین سے بھرپور غذا شامل کرنے پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
دل، کولیسٹرول یا ذیابیطس کے مریض محتاط رہیں
ہائی کولیسٹرول، دل کی بیماری، ذیابیطس یا وزن کے مسائل رکھنے والے افراد کو اپنی خوراک میں چکنائی کے استعمال کے حوالے سے زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
اگر ڈاکٹر نے سیر شدہ چکنائی کم کرنے کی ہدایت کی ہو تو گھی اور مکھن کا استعمال محدود رکھنا خاص طور پر ضروری ہے۔ ایسی صورت میں مناسب قسم کے تیل کا محدود استعمال نسبتاً بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔
تو پھر بہترین انتخاب کیا ہے؟
کبھی کبھار پراٹھا کھانے والے افراد کم مقدار میں گھی، مناسب تیل یا مکھن میں سے اپنی پسند کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ تاہم روزانہ پراٹھا کھانے کی صورت میں اصل توجہ چکنائی کی مقدار کم رکھنے پر ہونی چاہیے۔
صحت کے لیے کوئی ایک چکنائی ہر صورتحال میں بہترین نہیں۔ اعتدال، مناسب مقدار اور متوازن غذا زیادہ اہم ہیں۔ پراٹھے کے ساتھ سبزیاں، پھل، دالیں، ثابت اناج اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذاؤں کو خوراک کا حصہ بنانا مجموعی صحت کے لیے زیادہ مفید طریقہ ہے۔

Leave a reply