کیا بڑھاپا بھی قابلِ علاج عمل بن سکتا ہے؟ سائنس دان تحقیق میں مصروف

0
22
کیا بڑھاپا بھی قابلِ علاج عمل بن سکتا ہے؟ سائنس دان تحقیق میں مصروف

سائنس کی دنیا میں بڑھاپے کو سمجھنے کے حوالے سے ایک اہم سوال پر تحقیق جاری ہے کہ کیا عمر بڑھنے کے حیاتیاتی عمل کو سست یا تبدیل کرکے انسان کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھا جا سکتا ہے؟

محققین کے مطابق مقصد صرف انسان کی عمر میں اضافہ کرنا نہیں بلکہ صحت مند زندگی کے دورانیے کو بڑھانا ہے، یعنی ایسے برس زیادہ کرنا جن میں انسان بیماریوں سے محفوظ، فعال اور خودمختار زندگی گزار سکے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے خلیوں اور مختلف نظاموں میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ دل کی بیماری، ذیابیطس، بعض کینسرز اور دیگر دائمی امراض کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں۔ اسی لیے تحقیق کا ایک اہم رخ یہ ہے کہ بیماری ظاہر ہونے سے پہلے عمر رسیدگی سے وابستہ بنیادی حیاتیاتی تبدیلیوں کو ہدف بنایا جائے۔

جانوروں پر تجربات سے امید

عمر بڑھنے کے عمل پر ہونے والی تحقیق میں راؤنڈ ورمز اور چوہوں سمیت مختلف جانداروں پر تجربات کیے گئے ہیں۔ بعض مطالعات میں ادویات، جسمانی سرگرمی اور کیلوریز کی مقدار محدود کرنے جیسے طریقوں سے عمر رسیدگی سے وابستہ بعض حیاتیاتی تبدیلیوں کی رفتار کم ہونے کے شواہد ملے ہیں۔

تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ جانوروں میں سامنے آنے والے نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ انسانوں میں ابھی تک ایسا حتمی کلینیکل ثبوت موجود نہیں جس سے ثابت ہو کہ عمر بڑھنے کے بنیادی حیاتیاتی عمل کو تبدیل کرکے صحت مند زندگی کے برس یقینی طور پر بڑھائے جا سکتے ہیں۔

حیاتیاتی عمر اور کیلنڈر کی عمر میں فرق

محققین اب عمر کا اندازہ صرف پیدائش کے سال سے نہیں لگانا چاہتے۔ ان کی دلچسپی اس بات میں بھی ہے کہ جسم اندر سے کتنی تیزی سے عمر رسیدہ ہو رہا ہے۔

مثلاً ایک ہی عمر کے دو افراد کے جسموں میں عمر بڑھنے سے متعلق تبدیلیاں مختلف رفتار سے ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے سائنس دان ایسے بایومارکرز تلاش کر رہے ہیں جو جسم کی حیاتیاتی عمر اور عمر بڑھنے کی رفتار کے بارے میں معلومات فراہم کر سکیں۔

اس سلسلے میں ایپی جینیٹکس بھی اہم شعبہ بن چکا ہے۔ محققین ڈی این اے سے منسلک کیمیائی تبدیلیوں، خصوصاً میتھائل گروپس، کا جائزہ لے کر یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جسم میں عمر کے ساتھ ہونے والی تبدیلیاں کس حد تک نمایاں ہیں۔

کیا بایومارکر مستقبل کی صحت بتا سکتا ہے؟

تحقیق کا ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر کسی علاج کے بعد کسی حیاتیاتی نشان میں بہتری نظر آئے تو کیا اس کا مطلب یہ لازماً ہوگا کہ انسان مستقبل میں زیادہ صحت مند رہے گا؟

ابھی اس سوال کا قطعی جواب موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس دان ایسے کلینیکل مطالعات پر توجہ دے رہے ہیں جن میں یہ جانچا جا سکے کہ عمر رسیدگی سے متعلق حیاتیاتی تبدیلیوں میں کمی کا حقیقی صحت کے نتائج سے کتنا تعلق ہے۔

اگر مستقبل میں کوئی بایومارکر قابلِ اعتماد ثابت ہوگیا تو ممکن ہے کہ اسے کلینیکل ٹرائلز میں ایک متبادل پیمانے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ اس سے بعض تحقیقات میں کئی دہائیوں تک انتظار کیے بغیر علاج کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اصل چیلنج طویل مدت ہے

عمر رسیدگی پر تحقیق کا سب سے بڑا مسئلہ وقت ہے۔ اگر کسی علاج کا آغاز درمیانی عمر میں کیا جائے تو یہ جاننے کے لیے کہ آیا اس نے کئی دہائیوں بعد دل کی بیماری، ذیابیطس یا دیگر امراض کا خطرہ کم کیا، طویل عرصے تک لوگوں کا مشاہدہ کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسی لیے سائنس دان ایسے قابلِ اعتماد حیاتیاتی پیمانے تلاش کر رہے ہیں جو مستقبل کی صحت کے بارے میں نسبتاً جلد معلومات دے سکیں۔

لانجیویٹی کلینکس بھی سامنے آ رہے ہیں

تحقیق کے ساتھ ساتھ صحت مند طویل زندگی پر توجہ دینے والے خصوصی طبی مراکز بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ ان مراکز میں عمومی طبی معائنے کے علاوہ بعض افراد کی صحت، طرزِ زندگی اور جسمانی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔

امریکا میں میو کلینک نے 2023 میں صحت مند طویل زندگی سے متعلق کلینک شروع کیا، جبکہ سنگاپور میں بھی اسی نوعیت کے پروگرام سامنے آئے ہیں۔

تاہم ماہرین کے مطابق لانجیویٹی میڈیسن میں دستیاب ہر طریقہ یا ٹیکنالوجی یکساں طور پر سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں۔ اس لیے کسی بھی علاج یا ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پہلے اس کے شواہد، ممکنہ فوائد اور خطرات کو دیکھنا ضروری ہے۔

فی الحال بنیادی صحت کے اصول اہم

سائنس دانوں کی نئی تحقیق مستقبل میں عمر رسیدگی کے علاج کے امکانات پیدا کر رہی ہے، لیکن ماہرین کے مطابق صحت مند زندگی کے لیے ثابت شدہ اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور مضبوط سماجی روابط اب بھی مجموعی صحت کے اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔

موجودہ سائنسی تحقیق سے یہ ضرور معلوم ہو رہا ہے کہ بڑھاپا صرف کیلنڈر پر گزرنے والے سالوں کا نام نہیں بلکہ جسم میں ہونے والی پیچیدہ حیاتیاتی تبدیلیوں کا مجموعہ بھی ہے۔ تاہم ابھی یہ دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ بڑھاپا ایک باقاعدہ قابلِ علاج بیماری بن چکا ہے۔

اصل سوال اب بھی تحقیق کے مرحلے میں ہے: کیا عمر بڑھنے کے بنیادی حیاتیاتی عمل کو محفوظ اور مؤثر طریقے سے تبدیل کرکے انسان کو زیادہ عرصے تک صحت مند رکھا جا سکتا ہے؟

Leave a reply