ترکیہ میں کشتیِ نوحؑ کی تلاش میں بڑا قدم، زمین کے اندر سے کیا ملا؟

0
21
ترکیہ میں کشتیِ نوحؑ کی تلاش میں بڑا قدم، زمین کے اندر سے کیا ملا؟

آغری: ترکیہ میں کوہِ ارارات کے قریب ایک کشتی نما زمینی ساخت، جسے طویل عرصے سے حضرت نوحؑ کی کشتی سے منسوب کیا جاتا ہے، پر جدید سائنسی تحقیق کا ایک اہم مرحلہ مکمل کرلیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ابھی یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ یہ واقعی کشتیِ نوحؑ کی باقیات ہیں۔
یہ مقام ترکیہ کے مشرقی صوبے آغری کے ضلع دوغوبایزیت میں تلچیکر اور اوزنگیلی دیہات کے درمیان واقع ہے۔ موجودہ تحقیقی منصوبے کی نگرانی سِواس جمہوریہ یونیورسٹی کر رہی ہے، جبکہ پانچ ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 20 ماہرین نے تحقیق میں حصہ لیا۔
تقریباً 90 روزہ فیلڈ ورک کے دوران محققین نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے علاقے کی نقشہ سازی اور تھری ڈی ماڈل تیار کیا۔ زمین کے اندر موجود ساختوں کا جائزہ لینے کے لیے جدید ریڈار ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جبکہ مختلف مقامات سے بڑی تعداد میں مٹی کے نمونے بھی جمع کیے گئے۔
تحقیق میں پہلی مرتبہ بنیادی ڈرلنگ کے ذریعے زمین کی گہرائی سے مسلسل نمونے حاصل کیے گئے۔ تحقیقی ٹیم کے نائب سربراہ امریکی محقق اینڈریو جونز کے مطابق ڈرلنگ سے حاصل ہونے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ زیرِ زمین ساخت محض ایک یکساں چٹان نہیں بلکہ اس میں مٹی کی مختلف تہیں بھی موجود ہیں۔
محققین کو بعض گہرائیوں سے گہری اور نامیاتی مادے سے بھرپور مٹی ملی ہے۔ اب لیبارٹری میں اس کا تفصیلی تجزیہ کیا جارہا ہے تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا اس میں لکڑی کے بوسیدہ ذرات یا انسانی سرگرمی سے متعلق کوئی آثار موجود ہیں یا نہیں۔
اگست میں کیے گئے ریڈار اسکین میں زیرِ زمین چند غیر معمولی ساختیں بھی ریکارڈ کی گئیں۔ تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ ریڈار پر نظر آنے والی ان ساختوں کو فی الحال کسی قدیم کشتی یا انسانی تعمیر سے جوڑنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔
یہ زمینی ساخت 1959 میں ترک فوج کے نقشہ ساز افسر کیپٹن الہان دوروپنار کے فضائی سروے کے دوران منظر عام پر آئی تھی۔ اس کے بعد سے مختلف ادوار میں ترکیہ اور دیگر ممالک کے محققین اس مقام کا جائزہ لیتے رہے ہیں۔
موجودہ منصوبہ مئی 2026 میں سِواس جمہوریہ یونیورسٹی کے شعبہ آثارِ قدیمہ کے پروفیسر ڈاکٹر جنکر آتیلا کی قیادت میں شروع ہوا۔ اس بار تحقیق میں سطحی مشاہدے کے ساتھ ساتھ زیرِ زمین ساخت، مٹی کے نمونوں، ریڈار ڈیٹا اور ڈرلنگ کے نتائج کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
تحقیقی ٹیم کے مطابق فیلڈ ورک مکمل ہوچکا ہے، لیکن اصل سائنسی تجزیہ ابھی جاری ہے۔ ریڈار ڈیٹا اور ڈرلنگ سے حاصل ہونے والے نمونوں کا مزید تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا، جبکہ حتمی رپورٹ آئندہ سال اپریل یا مئی تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ نتائج نے اس مقام پر مزید تحقیق کی ضرورت ضرور اجاگر کی ہے، لیکن اس مرحلے پر اسے حضرت نوحؑ کی کشتی کی باقیات قرار دینے کے لیے قطعی سائنسی ثبوت دستیاب نہیں۔ حتمی نتیجہ لیبارٹری تجزیوں اور مکمل تحقیقی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی اخذ کیا جاسکے گا۔

Leave a reply