
اسلام آباد: پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت نے ادویات کی قیمتیں مقرر کرنے کے موجودہ طریقہ کار میں مجوزہ تبدیلیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں کے تعین کی موجودہ پالیسی اور ہارڈ شپ میکانزم کو برقرار رکھا جائے۔
فارما صنعت سے وابستہ نمائندوں کے مطابق قیمتوں کے نظام میں اچانک تبدیلیاں ادویات کی پیداوار، درآمد اور مارکیٹ میں دستیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈرگ پرائسنگ پالیسی 2018 میں مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد تشکیل دی گئی تھی اور اس کی قانونی حیثیت بھی عدالتِ عظمیٰ کے سامنے برقرار رہ چکی ہے۔
حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد چیمہ نے وزارتِ قومی صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کو ادویات کی قیمتوں سے متعلق قانونی نظام میں فوری اصلاحات کی ہدایت کی تھی۔
مجوزہ اقدامات میں ہارڈ شپ پالیسی اور ڈریپ پالیسی بورڈ کی تشکیل میں تبدیلیاں بھی شامل ہیں۔ حکومت کا مقصد بنیادی ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ صارفین کو غیر ضروری قیمتوں میں اضافے سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
فارما صنعت کا مؤقف ہے کہ حکومت پہلے ہی ضروری اور جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں پر براہِ راست نگرانی کرتی ہے۔ تقریباً 500 بنیادی ادویات، جو ملک میں دستیاب مجموعی ادویات کا لگ بھگ 40 فیصد بنتی ہیں، قیمتوں کے حکومتی کنٹرول میں شامل ہیں۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق موجودہ نظام میں قیمتوں پر نظرثانی کے لیے مہنگائی اور علاقائی مارکیٹ کی قیمتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ان کے بقول سالانہ قیمتوں میں اضافے کی حد عمومی طور پر افراطِ زر کے 70 فیصد تک رکھی جاتی ہے، جبکہ بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے دیگر ممالک میں متعلقہ ادویات کی قیمتوں کا بھی تقابلی جائزہ لیا جاتا ہے۔
فارما حکام کے مطابق مالی سال 2026 میں بنیادی ادویات کی قیمتوں میں زیادہ سے زیادہ 4.9 فیصد اضافہ ہوا، جو اس عرصے کی تقریباً 7 فیصد افراطِ زر کی شرح کے 70 فیصد کے مساوی تھا۔
انڈسٹری کا کہنا ہے کہ 2024 میں غیر ضروری اور عام ادویات کو قیمتوں کے سخت کنٹرول سے نکالنے کے بعد مارکیٹ میں کمپنیوں کے درمیان قیمت اور معیار کی بنیاد پر مسابقت بڑھی ہے۔ ایک صنعتی عہدیدار کے مطابق اس تبدیلی سے قبل صنعت کا خالص منافع تقریباً 3 فیصد تھا، جو اب بڑھ کر تقریباً 10 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
فارما نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر قیمتوں کے حوالے سے غیر متوقع حکومتی مداخلت جاری رہی تو کمپنیوں کے لیے پیداواری لاگت پوری کرنا، سرمایہ کاری بڑھانا اور نئی پیداواری صلاحیت قائم کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق پاکستان سے بعض ملٹی نیشنل فارما کمپنیوں کی واپسی کی ایک بڑی وجہ پالیسیوں میں عدم تسلسل بھی رہی ہے۔ صنعت کا کہنا ہے کہ مستحکم پالیسی ماحول مقامی پیداوار، سرمایہ کاری اور ادویات کی برآمدات میں اضافے کے لیے ضروری ہے۔
فارما صنعت نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں کے موجودہ نظام کو مناسب وقت دیا جائے تاکہ سستی ادویات کی دستیابی، معیار، مقامی پیداوار اور برآمدات سے متعلق اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق فارما کمپنیاں بھی دیگر کاروباری شعبوں کی طرح منافع کے ذریعے دوبارہ سرمایہ کاری کرتی ہیں، جس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، ادویات کی دستیابی اور برآمدی سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔








