دوستی اتفاق نہیں! ماہرین نے مضبوط تعلق بنانے کے حیران کن طریقے بتا دیے

0
14
دوستی اتفاق نہیں! ماہرین نے مضبوط تعلق بنانے کے حیران کن طریقے بتا دیے

زندگی کے مصروف معمولات، کام کی ذمہ داریوں اور بدلتے حالات کے باعث عمر بڑھنے کے ساتھ نئے دوست بنانا بعض افراد کے لیے مشکل محسوس ہوتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دوستی صرف اتفاق سے قائم ہونے والا تعلق نہیں بلکہ کچھ عادات اور مسلسل کوششوں کے ذریعے اسے مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

تحقیقی شواہد کے مطابق کسی شخص سے بار بار ملنا، باہمی پسندیدگی پیدا ہونا، ایک دوسرے سے معمولی مدد لینا دینا، مناسب حد تک ذاتی باتیں شیئر کرنا اور مختصر مگر مستقل رابطہ دوستی کے قیام اور اسے برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دوستی کے لیے سب سے اہم عوامل میں مستقل ملاقات اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے کے مواقع شامل ہیں۔ اسی لیے ایسی سرگرمیوں کا حصہ بننا جہاں ایک ہی لوگوں سے بار بار ملاقات ہو، نئے تعلقات بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مثلاً کسی اسپورٹس یا رننگ کلب میں شمولیت، ہفتہ وار کلاس لینا، کسی کیفے یا کمیونٹی سرگرمی میں باقاعدگی سے شرکت کرنا یا کسی تخلیقی سرگرمی کا حصہ بننا نئے لوگوں سے واقفیت کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔

ماہرین ایسے مقامات کو دوستی کے لیے سازگار ماحول قرار دیتے ہیں، جہاں لوگوں کو مسلسل ایک دوسرے سے ملنے اور بات چیت کرنے کا موقع ملتا ہو۔ زندگی میں تبدیلی بھی نئے تعلقات بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر شہر یا ملک تبدیل کرنے والے افراد بعض اوقات ایسے لوگوں کے قریب آ جاتے ہیں جو خود بھی اسی طرح کی تبدیلی سے گزر رہے ہوں۔

مدد مانگنا بھی تعلق مضبوط کر سکتا ہے

عام طور پر لوگ دوسروں سے مدد مانگتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ شاید سامنے والا اسے بوجھ سمجھے، لیکن ماہرین کے مطابق مناسب نوعیت کی مدد طلب کرنا بعض اوقات تعلق میں قربت پیدا کر سکتا ہے۔

کسی جاننے والے سے مشورہ لینا، کسی کام میں معمولی مدد طلب کرنا یا اس کی رائے پوچھنا بات چیت کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرح دونوں افراد ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے لگتے ہیں۔

ذاتی بات چیت میں توازن ضروری

دوستی کو گہرا کرنے میں ذاتی خیالات اور تجربات کا مناسب حد تک اظہار بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ جب ایک شخص اعتماد کے ساتھ اپنے بارے میں کچھ شیئر کرتا ہے تو دوسرا فرد بھی اپنی زندگی یا احساسات کے بارے میں بات کرنے پر زیادہ آمادہ ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق ابتدا ہی میں بہت زیادہ ذاتی معلومات شیئر کرنے کے بجائے اعتماد کو بتدریج بڑھانا بہتر ہے۔ ہر شخص دوستی میں قربت کی ایک جیسی رفتار نہیں چاہتا، اس لیے دوسرے فرد کی حدود اور ردعمل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

لمبی کال کے بجائے مختصر مگر حقیقی رابطہ

دوستی برقرار رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ ہر بار گھنٹوں بات کی جائے۔ ماہرین کے مطابق چند منٹ کی توجہ سے کی جانے والی گفتگو بھی تعلق کو زندہ رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

مصروف زندگی میں دوست کو مختصر پیغام بھیجنا، فون پر چند منٹ بات کرنا، کسی پرانی یاد کا ذکر کرنا یا اس کی خیریت دریافت کرنا رابطے کو برقرار رکھنے کا آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح روزمرہ کے معمولی معاملات بھی دوستی کے لیے موقع بن سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی دوست یا رشتہ دار سے کسی ترکیب، مشورے یا ذاتی تجربے کے بارے میں پوچھنا صرف مطلوبہ معلومات ہی نہیں دیتا بلکہ باہمی تعلق کو بھی تازہ کر سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی کے باوجود انسانی رابطہ اہم

ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی نے بہت سے ایسے کام آسان کر دیے ہیں جن کے لیے پہلے لوگ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے تھے۔ اس سہولت کا ایک نتیجہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ معمولی نوعیت کے انسانی رابطے کم ہو جائیں۔

کسی سے چھوٹی سی مدد لینا، مشورہ طلب کرنا یا چند منٹ بات کرنا بظاہر معمولی اقدامات ہیں، لیکن یہی مواقع بعض اوقات کمزور پڑتے تعلقات کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تحقیق میں مضبوط سماجی روابط کو ذہنی اور جسمانی صحت کے متعدد بہتر نتائج سے بھی منسلک کیا گیا ہے۔ بعض مطالعات میں سماجی تعلقات کو دباؤ سے نمٹنے کی بہتر صلاحیت اور بعض صحت کے نتائج سے جوڑا گیا ہے۔ تاہم ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ سماجی روابط اور صحت کے درمیان تعلق پیچیدہ ہے اور دیگر عوامل بھی اس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

سماجی تنہائی کے صحت پر ممکنہ اثرات کے باعث امریکا کے سرجن جنرل کے دفتر نے بھی 2023 میں سماجی تعلق اور تنہائی کے موضوع پر خصوصی ایڈوائزری جاری کی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ نئی دوستی بنانا ناممکن نہیں۔ باقاعدگی سے لوگوں سے ملنا، مشترکہ سرگرمیوں میں حصہ لینا، باہمی دلچسپی پیدا کرنا، اعتماد کو وقت دینا اور مختصر مگر مستقل رابطہ برقرار رکھنا ایسے عملی اقدامات ہیں جو وقت کے ساتھ مضبوط سماجی تعلقات بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

Leave a reply