27 ستمبر سے پہلے کیا ہونے جا رہا ہے؟ پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں نے سوال اٹھا دیے

0
22
27 ستمبر سے پہلے کیا ہونے جا رہا ہے؟ پی ٹی آئی کے اہم رہنماؤں کی گرفتاریوں نے سوال اٹھا دیے

اسلام آباد اور پنجاب میں تحریک انصاف کے ممکنہ 27 ستمبر کے مارچ سے قبل سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کیجانب سے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی بیانات کاسلسلہ جاری ہے۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں پارٹی کے تقریباً 1500 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق گرفتار یا زیرِ حراست افراد میں قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان اور ایک سینیٹر بھی شامل ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے عمران خان کے اہلِ خانہ کی گرفتاریوں کو بھی سیاسی کارروائی قرار دیا۔ دوسری جانب رپورٹس کے مطابق بعض پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت کارروائی کی گئی ہے۔
لاہور اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران عمران خان کی بہنوں علیمہ خان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان سمیت دیگر افراد کی گرفتاری کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر بھی اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صوبے میں باضابطہ نوٹیفکیشن کے بغیر عملاً گورنر راج جیسی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت کے منتخب نمائندے موجود ہونے کے باوجود اختیارات کسی اور کے پاس نظر آ رہے ہیں۔
ادھر وفاقی دارالحکومت اور پنجاب کی انتظامیہ نے ممکنہ مارچ کے پیش نظر سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ اسلام آباد میں دفعہ 144 اور پُرامن اجتماع سے متعلق قانون نافذ کیے جانے کے بعد انتظامیہ نے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
خیبرپختونخوا سے اسلام آباد اور پنجاب کی جانب آنے والے راستوں پر بھی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ مختلف شاہراہوں اور موٹرویز پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں تعلیمی اداروں کو آن لائن کلاسز جاری رکھنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو اپنے صوبے کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ کی تیاری کرنی چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری جانب سابق پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے ایک انٹرویو میں پارٹی کی موجودہ حکمت عملی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف نے مناسب تیاری کے بغیر قدم اٹھایا ہے اور کارکنوں میں بھی مارچ کے مقصد کے حوالے سے واضح صورتحال موجود نہیں۔
شیر افضل مروت نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی رابطے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ براہِ راست بات چیت سے موجودہ کشیدگی میں کمی لانے کی گنجائش موجود ہے۔

Leave a reply