پمز نرسری سانحہ: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامی غفلت کی نشاندہی

0
13
پمز نرسری سانحہ: 14 نومولود بچوں کی ہلاکت، تحقیقاتی رپورٹ میں انتظامی غفلت کی نشاندہی

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں پیش آنے والے آتشزدگی کے المناک واقعے کی 43 صفحات پر مشتمل تحقیقاتی رپورٹ سامنے آگئی، جس میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کو متعدد انتظامی اور حفاظتی خامیوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق نرسری میں آگ لگنے کے واقعے کے دوران 14 بچے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ایک نومولود کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ کسی ایک فرد کی غفلت نہیں بلکہ طویل عرصے سے موجود متعدد فائر سیفٹی خامیوں کا برقرار رہنا تھا۔

رپورٹ کے مطابق نرسری میں مؤثر خودکار فائر ڈیٹیکشن، الارم اور اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورت میں نومولود بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے مناسب سہولیات اور باقاعدہ ایس او پی بھی دستیاب نہیں تھا۔

تحقیقاتی ٹیم نے نیشنل فرانزک ایجنسی کے شواہد کی بنیاد پر قرار دیا کہ آگ آکسیجن لیکیج یا کسی دانستہ کارروائی کے باعث نہیں لگی۔ ابتدائی تکنیکی شواہد کے مطابق آگ کا آغاز اے سی نمبر 2 کی برقی کیبل میں شارٹ سرکٹ سے ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دس بستروں کی گنجائش رکھنے والی نرسری میں واقعے کے وقت 15 نومولود بچے زیر علاج تھے، جن میں متعدد بچوں کو آکسیجن یا دیگر سانس کی معاونت درکار تھی۔ نرسری میں آکسیجن کی موجودگی اور آتش گیر مواد نے آگ اور دھوئیں کے پھیلاؤ کو مزید خطرناک بنا دیا۔

تحقیقاتی رپورٹ میں امدادی کارروائی میں تاخیر کو بھی اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق آگ سامنے آنے کے بعد بیرونی امداد طلب کرنے میں خاصا وقت صرف ہوا، جبکہ ریسکیو ٹیموں کی روانگی اور موقع پر پہنچنے کے درمیان بھی وقفہ رہا۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پمز میں فائر سیفٹی سے متعلق خامیوں کی نشاندہی ماضی میں سی ڈی اے کے خطوط اور وفاقی محتسب کی سفارشات کے ذریعے کی جا چکی تھی۔ پمز انتظامیہ نے بھی گزشتہ برس اپنے حفاظتی نظام کی پرانی اور ناکافی حالت کا اعتراف کیا تھا، تاہم مطلوبہ اصلاحات بروقت نہیں کی گئیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے فرنٹ لائن طبی عملے کو بھی بری الذمہ قرار دیتے ہوئے ان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عملے نے انتہائی مشکل حالات میں بچوں کو بچانے کی فوری کوششیں کیں۔

رپورٹ میں نرس رضیہ نورین کی بہادری کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک نومولود کو نرسری سے باہر منتقل کیا۔ ڈاکٹر عبدالرحمان کی جانب سے بھی ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لینے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ امداد طلب کرنے میں تاخیر، برقی نظام کی دیکھ بھال اور متعلقہ کنٹریکٹرز کے کردار کا مزید قانونی و فوجداری جائزہ لیا جائے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں ملک بھر کے اسپتالوں میں فوری طور پر برقی اور فائر سیفٹی آڈٹ کرانے، ہنگامی انخلا کے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے اور حفاظتی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

Leave a reply