حوثیوں کا بڑھتا دباؤ، سعودی عرب کے لیے جنگ کا راستہ مشکل کیوں؟

ریاض: یمن میں ایران نواز حوثی گروپ کی عسکری سرگرمیوں میں اضافے اور سعودی عرب پر ہونے والے حملوں نے خطے کی صورتحال کو ایک بار پھر انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے لیے حوثیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کرنا آسان فیصلہ نہیں، کیونکہ اس کے نتیجے میں تنازع مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔
علاقائی دفاعی امور کے ماہر محمد الباشا کے مطابق سعودی عرب اس وقت متعدد محاذوں سے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ یمن کے حوثیوں کے علاوہ عراق سے وابستہ مسلح گروہوں کی جانب سے بھی حملوں کی اطلاعات نے ریاض کے لیے خاموش رہنے کے امکانات محدود کر دیے ہیں۔
حالیہ عرصے میں حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے داخلی راستے کے قریب واقع جزیرہ پیرم اور ساحلی علاقے موخا میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پیش رفت کو باب المندب کی اہم سمندری گزرگاہ کے حوالے سے خاص اہمیت حاصل ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی ڈرون حملے کا نشانہ بن چکی ہے، جس کے بعد اس کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔ حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے باضابطہ طور پر قبول نہیں کی، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاملے میں ایران کی جانب اشارہ کیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے پاس جدید ہتھیاروں اور بڑے دفاعی وسائل کے باوجود حوثیوں کو فیصلہ کن طور پر شکست دینا ایک پیچیدہ چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ یمن میں طویل عرصے سے جاری جنگ نے یہ ظاہر کیا ہے کہ محدود وسائل رکھنے والا مسلح گروپ بھی جغرافیائی حالات اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کے ذریعے ایک بڑی فوج کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے شمالی یمن پر عائد معاشی اور سفری پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ گروپ کے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ جب تک یہ پابندیاں ختم نہیں ہوتیں، سعودی عرب پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز سے وابستہ ماہر سنزیا بیانکو کے مطابق سعودی قیادت کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مکمل جنگ کا انتخاب ایک طویل اور وسیع تر علاقائی تنازع کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال میں یمن کا بحران صرف مقامی جنگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ سعودی عرب امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں بھی براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔
ادھر امریکا نے یمن میں براہِ راست بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق حوثیوں نے واشنگٹن سے رابطہ کر کے امریکی فوجی مداخلت سے بچنے کی درخواست کی ہے۔
رپورٹس کے مطابق سعودی قیادت نے واشنگٹن سے تعاون کی کوشش کی ہے، تاہم امریکی کردار کے دائرہ کار پر مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق فضائی کارروائیوں کی درخواست کی گئی تھی، جبکہ سابق سعودی حکومتی مشیر نواف عبید کا کہنا ہے کہ ریاض نے بنیادی طور پر انٹیلی جنس تعاون طلب کیا تھا۔
دوسری طرف سفارتی حل بھی آسان دکھائی نہیں دیتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حوثیوں کے ساتھ کسی معاہدے کے لیے سعودی عرب کو اہم مطالبات تسلیم کرنا پڑ سکتے ہیں، جسے بعض حلقے ریاض کے لیے سیاسی طور پر انتہائی مشکل فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔
سعودی تجزیہ کار سلمان الانصاری کے مطابق یمنی حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور مستقبل قریب میں ان میں اضافہ متوقع ہے۔ تاہم ان کے مطابق سعودی عرب عالمی سطح پر واضح اور مسلسل حمایت کے بغیر ایک طویل جنگ میں داخل ہونے سے گریز کرے گا۔
موجودہ صورتحال میں سعودی عرب کے لیے چیلنج یہ ہے کہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا جواب بھی دیا جائے اور ایسا فوجی قدم اٹھانے سے بھی بچا جائے جو پورے خطے کو ایک بڑے اور طویل تنازع کی طرف دھکیل دے۔








