آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایران نے امریکا کے سامنے 7 شرائط رکھ دیں

0
18
آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی، ایران نے امریکا کے سامنے 7 شرائط رکھ دیں

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے امریکا کے سامنے متعدد شرائط پیش کردی ہیں۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان مطالبات پر پیش رفت کے بغیر سمندری راستے کو مکمل طور پر معمول پر لانا ممکن نہیں ہوگا۔

ایرانی مطالبات میں ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اور دھمکیاں فوری طور پر روکنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

ایران نے اپنے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی اور حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں ایران کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں روکنے اور ایران کے جوہری و میزائل پروگرام میں بیرونی مداخلت ختم کرنے کو بھی شرائط کا حصہ بنایا گیا ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق ان اقدامات پر عمل درآمد کی صورت میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو مکمل طور پر معمول پر لانے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے ناکہ بندی اور فوجی کارروائیاں ختم کیے جانے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ ہے۔

پزشکیان کے مطابق ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ایک معاہدہ طے پانے کی توقع ہے، جس پر مسقط میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر دستخط کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق اجلاس میں ان ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوسکتے ہیں جہاں سے ایران کے خلاف حملے کیے گئے۔

ایرانی صدر نے مجوزہ انتظام کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہاز ایرانی سمندری حدود سے داخل ہوں گے جبکہ عمانی پانیوں کے راستے باہر نکلیں گے۔

مسعود پزشکیان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے علاقائی ممالک کے باہمی تعاون کو ضروری قرار دیا اور کہا کہ تمام فریقوں کو اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کے بارے میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہورہی۔ انہوں نے حوثیوں کے معاملات کو ایران اور سعودی عرب کے باہمی تنازع سے منسلک کرنے کو بھی درست قرار نہیں دیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی سپلائی، خصوصاً تیل کی ترسیل، کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس آبی گزرگاہ کی صورتحال عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت کے لیے بھی اہمیت اختیار کرچکی ہے۔

Leave a reply