آخر وال کلاک پر 12 ہندسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ دلچسپ تاریخی وجہ سامنے آگئی

0
17
آخر وال کلاک پر 12 ہندسے ہی کیوں ہوتے ہیں؟ دلچسپ تاریخی وجہ سامنے آگئی

دنیا بھر میں وقت دیکھنے کے لیے گھڑی کا استعمال عام ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ روایتی وال کلاک پر 24 کے بجائے صرف 12 ہندسے دائرے کی شکل میں کیوں موجود ہوتے ہیں؟

ایک دن اگرچہ 24 گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم روایتی اینالاگ گھڑی میں وقت کو 12 گھنٹوں کے چکر میں دکھایا جاتا ہے۔ اس ڈیزائن کے پیچھے صدیوں پر محیط تاریخ اور قدیم تہذیبوں کے وقت ناپنے کے طریقے کارفرما ہیں۔

قدیم زمانے میں سورج کی مدد سے وقت کا اندازہ لگانے کے لیے سن ڈائل استعمال کیے جاتے تھے۔ سورج کی ظاہری حرکت کے مطابق سایہ اپنی جگہ تبدیل کرتا تھا اور اسی تبدیلی سے وقت کا تعین کیا جاتا تھا۔

بعد میں جب مکینیکل گھڑیاں وجود میں آئیں تو وقت دکھانے کے لیے بڑی حد تک وہی تصور اپنایا گیا جو سن ڈائل میں رائج تھا۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی گھڑی کی سوئیوں کی حرکت آج بھی اسی سمت میں ہوتی ہے جسے ہم کلاک وائز کہتے ہیں۔

گھڑی کے ڈائل پر 12 حصوں کی تقسیم بھی اچانک وجود میں نہیں آئی۔ اس کی جڑیں قدیم بابل کے ریاضیاتی نظام تک پہنچتی ہیں، جہاں 60 پر مبنی sexagesimal نظام استعمال کیا جاتا تھا۔ بعد ازاں یونانی ماہرین نے دائرے اور وقت کی تقسیم کے لیے ان تصورات کو آگے بڑھایا۔

قدیم یونانی ماہرِ فلکیات ہپارکس نے دائرے کو 360 ڈگری میں تقسیم کرنے کے تصور کو فروغ دیا، جبکہ بعد میں بطلیموس نے زاویوں کو مزید چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے طریقے کو استعمال کیا۔ وقت کی پیمائش میں گھنٹے، منٹ اور سیکنڈ کی موجودہ تقسیم بھی اسی طویل تاریخی ارتقا کا نتیجہ ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ گھڑی میں 12 کا ہندسہ سب سے اوپر ہی کیوں رکھا جاتا ہے؟

اس کی بنیادی وجہ سن ڈائل سے جڑی ہوئی ہے۔ شمالی نصف کرۂ ارض میں عام سن ڈائل پر دوپہر کے وقت سورج نسبتاً بلند مقام پر ہوتا ہے اور سایہ اپنی مخصوص پوزیشن اختیار کرتا ہے۔ مکینیکل گھڑیوں کے ابتدائی ڈیزائن میں سن ڈائل کی روایتی ترتیب اور سمت کو برقرار رکھا گیا، جو وقت کے ساتھ ایک عالمی طور پر مانوس ڈیزائن بن گئی۔

یوں آج وال کلاک کا 12 ہندسوں والا گول ڈائل محض ایک ڈیزائن نہیں بلکہ قدیم فلکیات، ریاضی اور وقت ناپنے کے صدیوں پرانے طریقوں کا نتیجہ ہے۔

Leave a reply