میٹا کا نیا اے آئی ایجنٹ، ای میل سے ادائیگیوں تک کام خود کرے گا

0
21
میٹا کا نیا اے آئی ایجنٹ، ای میل سے ادائیگیوں تک کام خود کرے گا

میٹا نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے ایسا اے آئی ایجنٹ متعارف کرایا ہے جو صارف کی اجازت سے مختلف ایپس تک رسائی حاصل کرکے کئی روزمرہ کام خود انجام دے سکے گا۔

رپورٹس کے مطابق اس نئے اے آئی ایجنٹ کا نام ’میوز‘ (Muse) رکھا گیا ہے۔ یہ صارف کی ہدایت پر ای میل بھیجنے، سفر کی منصوبہ بندی اور بکنگ، خریداری، ادائیگیوں اور دیگر آن لائن کاموں میں مدد فراہم کر سکے گا۔

میٹا کے مطابق میوز کو ابتدا میں امریکا میں متعارف کرایا جائے گا اور اسے ایک الگ ایپ کے ساتھ ساتھ واٹس ایپ کے ذریعے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ کمپنی مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو اپنی اسمارٹ گلاسز میں شامل کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔

حساس معلومات تک رسائی

میوز کو صارف کی اجازت سے ای میل، کیلنڈر، ادائیگیوں، صحت، خریداری اور اسمارٹ ہوم سے متعلق ایپلی کیشنز تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ صارف جب چاہے کسی بھی اجازت کو ختم کر سکے گا۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ہر اے آئی ایجنٹ کے لیے الگ ورچوئل مشین استعمال کی جاتی ہے، جس کے ذریعے ایجنٹ کلاؤڈ میں ایک الگ ماحول کے اندر کام کرتا رہتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ صارف ایپ سے باہر ہونے کے باوجود اسے دیا گیا کام پس منظر میں جاری رہ سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کے لیے یہی سہولت سکیورٹی کے حوالے سے اہم سوالات بھی پیدا کرتی ہے، کیونکہ اے آئی کو جتنی زیادہ ذاتی اور مالی معلومات تک رسائی حاصل ہوگی، غلط فیصلے کی صورت میں نقصان کا امکان بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔

سکیورٹی پر خصوصی توجہ

میٹا کے مطابق کمپنی نے میوز کی لانچ میں تاخیر بھی کی تاکہ اس کے حفاظتی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ ایجنٹ کے ساتھ ایک اضافی نگرانی کا نظام بھی موجود ہے جو اس کی جانب سے کیے جانے والے بعض اقدامات کا جائزہ لیتا ہے اور ضرورت پڑنے پر صارف سے دوبارہ اجازت طلب کر سکتا ہے۔

اس کے باوجود کمپنی تسلیم کرتی ہے کہ کسی بھی اے آئی ایجنٹ سے غلطی کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

اندرونی تجربات میں ملے جلے نتائج

میوز کے ابتدائی تجربات میں جہاں کچھ ملازمین نے اسے روزمرہ کاموں کے لیے مفید قرار دیا، وہیں بعض ٹیسٹس میں تکنیکی اور حفاظتی مسائل بھی سامنے آئے۔

رپورٹس کے مطابق ایک تجربے کے دوران اے آئی ایجنٹ نے حفاظتی پابندیوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ذاتی تصاویر تک رسائی حاصل کرنے کا مظاہرہ کیا۔ بعض دیگر تجربات میں لاگ اِن کے مسائل اور ویب صفحات کی مسلسل نگرانی سے متعلق خامیاں بھی سامنے آئیں۔

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ اے آئی ایجنٹس عام چیٹ بوٹس کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں مکمل خودمختاری دینے سے پہلے سکیورٹی اور قابلِ اعتماد کارکردگی کے مسائل حل کرنا ضروری ہیں۔

سبسکرپشن بھی متعارف

میٹا کے مطابق میوز کا بنیادی ورژن مفت ہوگا، جبکہ زیادہ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بامعاوضہ سبسکرپشن پلان بھی پیش کیے جائیں گے۔

صارفین کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ فیصلہ کریں آیا ان کی میوز کے ساتھ گفتگو کو میٹا کے اے آئی ماڈلز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

میٹا مستقبل میں میوز کا ایک زیادہ محفوظ اور انکرپٹڈ ورژن بھی متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اے آئی ایجنٹس کی دوڑ میں میوز کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ صارفین کے کام کتنی درستگی سے انجام دیتا ہے اور حساس معلومات تک رسائی کے دوران سکیورٹی کو کس حد تک یقینی بنا پاتا ہے۔ اگر یہ ٹیکنالوجی قابلِ اعتماد ثابت ہوئی تو مستقبل میں ای میل، خریداری، سفر اور دیگر روزمرہ کاموں کے لیے صارف کو خود ایپس چلانے کی ضرورت کافی حد تک کم ہو سکتی ہے۔

Leave a reply