امریکی حملوں کے بعد ایران کا جوابی وار، اردن میں امریکی اڈہ میزائل حملوں کی زد میں

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید شدت آگئی ہے۔ امریکی فورسز کی جانب سے ایرانی تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد ایران نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات اور جنگی جہازوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق خلیج عمان اور ایرانی جزیرۂ خارگ کے قریب پانچ ایرانی آئل ٹینکرز کو کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی امریکی بحری جہاز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوششوں کے ردعمل میں کی گئی۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن میں موجود الازرق کے امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا، جبکہ خطے میں موجود دو امریکی بحری ڈسٹرائرز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے میں امریکی ایف 35 اور ایف 15 طیاروں کے ہینگرز کو نقصان پہنچا۔ ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید کارروائیاں کی گئیں تو خطے میں موجود امریکی مفادات اور تنصیبات کو مزید نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ ایرانی فورسز نے گزشتہ دو روز کے دوران امریکی جنگی جہاز کو دو مرتبہ نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم دونوں حملے ناکام رہے اور کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی تیل بردار جہازوں کے خلاف کارروائی سے قبل ان کے عملے کو جہاز خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ایران نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا ہے۔ ایرانی عسکری قیادت پہلے ہی خبردار کرچکی تھی کہ ایرانی ٹینکرز کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں خطے میں امریکی تنصیبات کو جواباً نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا جواب دیا جائے گا۔
ادھر اردن کی فوج کے مطابق ایرانی حملوں کے دوران اس کے دفاعی نظام نے متعدد میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کردیا۔ اردنی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی نمایاں ہوئے ہیں، جہاں خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔









