
اسلام آباد: حکومت نے آئندہ پانچ برس کے لیے تیار کی جانے والی نئی آٹو پالیسی میں ہائبرڈ اور کمرشل گاڑیوں کی درآمد پر عائد ڈیوٹی میں نمایاں کمی کی تجاویز شامل کرلی ہیں۔
نئی آٹو پالیسی 2026 سے 2031 تک نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان میں آٹو سیکٹر میں سرمایہ کاری بڑھانا، مقامی پیداوار کو فروغ دینا اور گاڑیوں کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔
پالیسی کے مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق 850 سی سی تک کی ہائبرڈ گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح 850 سے 1500 سی سی تک ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے بھی ڈیوٹی کی شرح 50 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
1501 سے 1800 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں کی ڈیوٹی میں بھی مرحلہ وار کمی کی جائے گی، جس کے بعد پانچ سال کے دوران یہ شرح 20 فیصد تک لانے کی تجویز ہے۔
اس کے علاوہ 1800 سی سی سے زیادہ انجن کی حامل ہائبرڈ گاڑیوں کے ٹیکس میں بھی آئندہ پانچ برس کے دوران 20 فیصد تک کمی کی تجویز زیر غور ہے۔
کمرشل گاڑیوں کے شعبے کے لیے بھی نئی پالیسی میں مراعات تجویز کی گئی ہیں۔ مجوزہ ڈرافٹ کے تحت ہائبرڈ ٹرک کی درآمدی ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کرنے جبکہ ہائی لائٹ کمرشل گاڑیوں پر ڈیوٹی 60 فیصد سے کم کرکے 30 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
ہائبرڈ بسوں کی درآمد پر بھی ڈیوٹی 30 فیصد سے گھٹا کر 15 فیصد کرنے کی تجویز شامل کی گئی ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی ٹیکنالوجی اور ہائبرڈ گاڑیوں کو مراعات دینے سے ملک میں جدید آٹو موبائل صنعت کو فروغ ملے گا، مقامی سطح پر پیداوار میں اضافہ ہوگا اور برآمدی شعبے کو بھی تقویت ملے گی۔
دوسری جانب موجودہ مالی سال کے دوران بھی درآمدی گاڑیوں کے ڈیوٹی اور ٹیکس نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ فنانس بل 2026-27 کے تحت مختلف انجن کیٹیگریز کی گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق 1800 سی سی تک ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی بعض درآمدی اسکیموں میں ڈیوٹی اور ٹیکس پر 50 فیصد رعایت جبکہ 1800 سے 2500 سی سی ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے 25 فیصد رعایت پہلے سے موجود ہے۔
تاہم نئی آٹو پالیسی کا حتمی اطلاق وزیراعظم کی منظوری اور دیگر قانونی و انتظامی مراحل مکمل ہونے سے مشروط ہے۔ منظوری کے دوران مجوزہ ڈیوٹی اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلی بھی کی جاسکتی ہے۔









