ایک پراسرار دھماکا اور آسمان میں پھیلتی راکھ، انڈونیشیا میں خوف کی نئی لہر

0
0
ایک پراسرار دھماکا اور آسمان میں پھیلتی راکھ، انڈونیشیا میں خوف کی نئی لہر

جکارتہ: انڈونیشیا میں آتش فشاں کی سرگرمی میں اضافے کے بعد فضائی سفر شدید متاثر ہوا ہے اور آتش فشانی راکھ کے پھیلاؤ کے باعث متعدد ہوائی اڈوں پر پروازوں کا آپریشن روک دیا گیا۔
حکام کے مطابق آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ مختلف علاقوں میں پھیلنے کے باعث تقریباً 2 لاکھ 70 ہزار مسافروں کو سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2300 سے زائد پروازیں منسوخی یا تاخیر سے متاثر ہوئیں۔
جاوا اور سماٹرا کے درمیان واقع اناک کراکاٹوا آتش فشاں میں حالیہ سرگرمی کے بعد راکھ کے بادل دارالحکومت جکارتہ کے اطراف تک پہنچ گئے۔ صورتحال کے پیش نظر مسافروں کی حفاظت کے لیے جکارتہ کے مرکزی سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کیا گیا۔
انڈونیشیا کے وزیر ٹرانسپورٹ ڈوڈی پورواگاندھی کے مطابق جکارتہ کا مرکزی ایئرپورٹ مقامی وقت کے مطابق شام 6 بجے تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ دیگر متاثرہ ایئرپورٹس کی صورتحال بھی مسلسل مانیٹر کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم اور راکھ کے پھیلاؤ میں مسلسل تبدیلی کے باعث پروازوں کی مکمل بحالی کا حتمی وقت بتانا ممکن نہیں۔
ایئرپورٹ پر پھنسے مسافروں کو پروازوں کی نئی معلومات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد مسافر کئی گھنٹوں تک انتظار کرتے رہے جبکہ کچھ نے ایئرپورٹ ہی میں آرام کیا۔
ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ فضائی سفر کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ راکھ میں موجود انتہائی باریک معدنی ذرات طیاروں کے انجنوں کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پرواز کی حفاظت کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے باعث راکھ مختلف سمتوں میں منتقل ہو رہی ہے، جس سے فضائی حدود کی نگرانی مزید اہم ہوگئی ہے۔ موسمیاتی حکام کے مطابق بعض مقامات پر راکھ کے بادل کئی ہزار میٹر بلندی تک پہنچے ہیں۔
حکام نے شہریوں کو بھی احتیاط کا مشورہ دیا ہے اور آتش فشانی راکھ والے علاقوں میں باہر نکلتے وقت ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بعض علاقوں میں طلبہ کو راکھ سے ممکنہ صحت کے مسائل سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کی گئی ہیں۔
انڈونیشیا دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں آتش فشانی سرگرمی نسبتاً زیادہ ہے۔ ملک میں تقریباً 130 فعال آتش فشاں موجود ہیں اور یہ بحرالکاہل کے معروف ’’رِنگ آف فائر‘‘ میں واقع ہے، جہاں ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرگرمی کے باعث زلزلوں اور آتش فشاں پھٹنے کے واقعات عام ہیں۔
اناک کراکاٹوا اسی مقام پر وجود میں آیا جہاں تاریخی کراکاٹوا آتش فشاں واقع تھا۔ 1883 میں کراکاٹوا کے تباہ کن دھماکے نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا تھا، جبکہ 2018 میں اناک کراکاٹوا کی سرگرمی کے نتیجے میں آنے والی سونامی سے بھی 400 سے زائد افراد جان سے گئے تھے۔
موجودہ صورتحال میں حکام آتش فشاں کی سرگرمی، راکھ کے پھیلاؤ اور موسمی حالات کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ فضائی آپریشن کی مکمل بحالی کا فیصلہ متعلقہ ادارے فضائی حدود کو محفوظ قرار دیے جانے کے بعد کریں گے۔

Leave a reply