الفا براوو چارلی‘ کے گل شیر کو والدین سے متعلق کس بات کا آج بھی افسوس ہے؟

0
9
الفا براوو چارلی‘ کے گل شیر کو والدین سے متعلق کس بات کا آج بھی افسوس ہے؟

اسلام آباد: پاکستان کے مقبول ڈرامے ’الفا براوو چارلی‘ میں کیپٹن گل شیر کا کردار ادا کرنے والے ریٹائرڈ کرنل قاسم شاہ نے اپنی زندگی کے ایسے واقعات کا ذکر کیا ہے جن کا افسوس انہیں آج بھی ہے۔

ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران قاسم شاہ نے بتایا کہ والدین کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد انسان کو ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اور اپنے رویوں کی غلطیاں شدت سے یاد آتی ہیں۔

انہوں نے اپنی والدہ سے متعلق ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ ان کے پاس بیٹھے تھے لیکن موبائل فون میں مصروف تھے۔ والدہ تقریباً 15 منٹ تک ان سے گفتگو کرتی رہیں، مگر وہ انہیں وہ توجہ نہ دے سکے جس کی وہ خواہش مند تھیں۔

قاسم شاہ کے مطابق ان کی والدہ نے اس موقع پر افسردگی سے کہا کہ شاید وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے اور انہیں معلوم نہیں کہ ان کی زندگی کے کتنے دن باقی ہیں۔ قاسم شاہ نے اس وقت اسے والدہ کا جذباتی انداز سمجھتے ہوئے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا، لیکن تقریباً 20 دن بعد ہی ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔

اداکار نے کہا کہ اگر انہیں اس وقت اندازہ ہوتا کہ والدہ اتنی جلدی دنیا سے چلی جائیں گی تو وہ موبائل فون ایک طرف رکھ کر اپنا سارا وقت ان کے ساتھ گزارتے۔

انہوں نے ایک اور واقعہ یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بار انہیں ایک تقریب میں شرکت کے لیے پنو عاقل جانا تھا۔ روانگی سے قبل والدہ نے سفر کی مدت پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ وہ صرف دو دن کے لیے جا رہے ہیں۔ تاہم واپسی پر انہیں معلوم ہوا کہ والدہ انتقال کرچکی تھیں، اور وہ دو دن ان کی زندگی کے انتہائی طویل دن ثابت ہوئے۔

قاسم شاہ نے اپنے والد کے حوالے سے بھی ایک واقعہ بیان کیا۔ ان کے مطابق شادی کے کچھ عرصے بعد ان کی پوسٹنگ ملتان میں ہوئی تو وہ اہلیہ کے ہمراہ گاڑی میں وہاں جا رہے تھے۔ بیمار والد نے ان کے ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی، لیکن قاسم شاہ کو یہ فکر تھی کہ واپسی پر والد کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا مشکل ہوگا۔

اسی پریشانی میں انہوں نے والد سے سخت لہجے میں بات کی اور ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا۔ قاسم شاہ کے مطابق انہیں فوراً احساس ہوگیا تھا کہ ان کے الفاظ سے والد کو دکھ پہنچا، چنانچہ انہوں نے معذرت بھی کرلی، مگر آج بھی انہیں افسوس ہے کہ گزرے ہوئے وقت کو واپس نہیں لایا جاسکتا۔

قاسم شاہ نے لوگوں پر زور دیا کہ والدین کی موجودگی کو معمولی نہ سمجھیں، ان کی بات توجہ سے سنیں، ان کے ساتھ وقت گزاریں اور نرم رویہ اختیار کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ والدین کے دنیا سے چلے جانے کے بعد انسان کے پاس ان کی یادیں تو رہ جاتی ہیں، لیکن ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت واپس نہیں آتا، اس لیے جب تک یہ رشتے ساتھ ہیں، ان کی قدر کرنی چاہیے۔

Leave a reply