پمز آتشزدگی: وزیراعظم کا 8 افسران کے خلاف کارروائی کا حکم، نرس کے لیے بڑا اعزاز اور انعام

0
26
پمز آتشزدگی: وزیراعظم کا 8 افسران کے خلاف کارروائی کا حکم، نرس کے لیے بڑا اعزاز اور انعام

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے نیونیٹل وارڈ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے افسوسناک واقعے پر ذمہ دار قرار دیے گئے 8 افسران اور اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کی منظوری دے دی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پمز آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کی روشنی میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر سمیت مختلف عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

کارروائی کی زد میں آنے والوں میں پمز کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر، جوائنٹ ایگزیکٹیو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر وارث علی شاہ، نیونیٹل ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض، سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغم، ڈاکٹر نوشیلہ امجد، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی محمد عثمان اور سی ڈی اے ایمرجنسی سروس کے ڈی جی ڈاکٹر عبدالرحمن شامل ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ذمہ دار افراد کے خلاف صرف محکمانہ کارروائی تک محدود نہ رہا جائے بلکہ متعلقہ فوجداری قوانین کے تحت بھی مقدمات اور کارروائی آگے بڑھائی جائے۔ سیکیورٹی فراہم کرنے والی نجی کمپنی اور اس کے متعلقہ ذمہ داران کے خلاف بھی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نرس رضیہ نورین کے لیے بڑا اعزاز

اجلاس میں وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کی بہادری کو خصوصی طور پر سراہا۔ نرس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آگ کی لپیٹ میں آنے سے قبل ایک نومولود بچے کو بچانے کی کوشش کی۔

وزیراعظم نے نرس رضیہ نورین کے لیے ستارۂ خدمت دینے اور ایک کروڑ روپے مالی انعام کی منظوری دی۔ اس کے علاوہ وارڈ میں موجود ایک دوسری نرس اور خاتون سیکیورٹی گارڈ کو او ایس ڈی بنانے اور مزید تحقیقات جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

پمز میں حفاظتی انتظامات پر سنگین سوالات

تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ ہسپتال میں آگ یا کسی دوسری ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جامع ایس او پیز اور مناسب تربیتی نظام موجود نہیں تھا۔

رپورٹ کے مطابق پمز کے متعدد ایس او پیز میں آگ یا ایمرجنسی سے متعلق واضح ہدایات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ واقعے کے دوران متعلقہ سپروائزری عملہ بھی ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ نیونیٹل وارڈ میں فائر الارم اور سپرنکلر سسٹم نصب نہیں تھا، جبکہ آگ سے نمٹنے کے لیے مخصوص ذمہ دار افسر کی عدم موجودگی بھی انتظامی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔

چند منٹ میں پورا وارڈ آگ کی لپیٹ میں آگیا

اجلاس کو دی گئی بریفنگ کے مطابق آگ لگنے کے بعد انتہائی مختصر وقت میں آگ نے پورے وارڈ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ایمرجنسی سروسز کو اطلاع آگ لگنے کے تقریباً چھ منٹ بعد دی گئی، جبکہ امدادی ٹیم کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں مزید وقت لگا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں اس سے پہلے بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آچکا تھا، تاہم اس کے بعد ہسپتال میں فائر سیفٹی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

ڈاکٹر محمد سلمان قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر

وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد سلمان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ، کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کردی۔

ساتھ ہی خالی ہونے والے عہدوں پر نئے افسران کی فوری تعیناتی کا حکم بھی دیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ عوام کے سامنے رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے مکمل تحقیقات جلد مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا بھی کہا۔

شہباز شریف نے کہا کہ بچوں کی ہلاکت ایک انتہائی افسوسناک سانحہ ہے اور غفلت کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانا ضروری ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اور متعلقہ اعلیٰ حکام کے علاوہ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ شاہد خان اور دیگر ارکان نے بھی شرکت کی۔

Leave a reply