ایران کا کویت اور یو اے ای میں امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

0
1
ایران کا کویت اور یو اے ای میں امریکی اہداف پر حملوں کا دعویٰ، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے کویت اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ایرانی عسکری ذرائع کے مطابق کویت میں امریکی تنصیبات کے مواصلاتی نظام، جنگی طیاروں اور بعض ذخیرہ گاہوں کو نقصان پہنچا۔ کویتی حکام نے حملوں کے جواب میں کارروائی کی تصدیق کی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کویت کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اماراتی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کویت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کرے گی۔

کشیدگی کے ماحول میں خطے کے رہنماؤں کے درمیان سفارتی رابطوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ اماراتی صدر اور امریکی صدر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے معاملات پر بات چیت کی گئی۔

اسی دوران سعودی ولی عہد اور مصر کے صدر نے بھی رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و سلامتی کی صورتحال بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق حالیہ امریکی کارروائیوں میں ایرانی بحریہ کے مزید چھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں، جس کے بعد رواں ہفتے ہلاک ہونے والے ایرانی فوجی اہلکاروں کی تعداد 13 ہوگئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ان ہلاکتوں کا بدلہ لیا جائے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ انہوں نے ایران پر حملہ کرنے کے اپنے فیصلے کو بھی درست قرار دیا۔

ٹرمپ نے امریکی فوج کے ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے پاس مطلوبہ گولہ بارود وافر مقدار میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یوکرین میں جاری جنگ کا بھی جلد خاتمہ چاہتے ہیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے تجارتی بحری جہازوں پر حملے روکنے تک تہران سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

وینس کے مطابق آبنائے ہرمز میں امریکی موجودگی کا مقصد عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ روز لاکھوں بیرل تیل لے جانے والے متعدد ٹینکرز محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرے۔

انہوں نے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ایران کی کارروائیوں کو قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف کسی بڑے پیمانے کی کارروائی کا آغاز نہیں کیا گیا۔

ایران میں ایک شادی کی تقریب کو امریکی حملے میں نشانہ بنائے جانے کی رپورٹس پر امریکی نائب صدر نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔ ان کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے سامنے آنے والی ایسی رپورٹس قابلِ اعتماد نہیں۔

جے ڈی وینس نے مزید دعویٰ کیا کہ چین ایران کو معاشی دباؤ میں لانے اور عالمی سطح پر اسے تنہا کرنے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، جس سے تہران پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

Leave a reply