جب ریاست سو جائے

جب ریاست سو جائے

تحریر:محمد رشید

کسی ریاست کی اصل طاقت اس کے بلند و بالا ایوانوں، بڑی بڑی تقریروں یا سرکاری نعروں میں نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کی جان اور عزت کی حفاظت کس حد تک کرتی ہے۔ ایک نومولود بچہ تو اپنی حفاظت کے لیے ایک انگلی تک نہیں اٹھا سکتا۔ اس کی زندگی مکمل طور پر دوسروں کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسے بچوں کی حفاظت میں ذرا سی کوتاہی بھی محض انتظامی غلطی نہیں رہتی، بلکہ انسانی المیہ بن جاتی ہے۔

اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری اسپتال کی نرسری میں نومولود بچوں کا آتش زدگی کے ایک واقعے میں جاں بحق ہونا اسی اجتماعی بے حسی کی المناک تصویر ہے۔ یہ واقعہ صرف چند خاندانوں کا ذاتی دکھ نہیں بلکہ پورے نظام کے لیے ایک سخت سوال ہے: آخر ہماری سرکاری مشینری شہریوں کی جان کے تحفظ کو اپنی اولین ذمہ داری کب سمجھے گی؟

اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو صرف آگ لگنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس آگ کے خطرات پہلے سے موجود تھے۔ اگر حفاظتی نظام میں خامیاں پہلے ہی سامنے آچکی تھیں، اگر فائر سیفٹی، الارم، ایمرجنسی راستوں اور تربیتی مشقوں کے حوالے سے اعتراضات موجود تھے، تو پھر ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیوں نہیں کیے گئے؟ یہی وہ سوال ہے جس کا جواب محض ایک انکوائری رپورٹ نہیں دے سکتی۔

حادثات کبھی کبھی اچانک رونما ہوتے ہیں، مگر تباہی کی شدت اکثر برسوں کی غفلت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک اسپتال میں فائر الارم کا مؤثر نہ ہونا، ہنگامی راستوں کا بند ہونا، عملے کے لیے واضح ایمرجنسی پروٹوکول کا نہ ہونا اور امدادی اداروں کو اطلاع پہنچنے میں غیر معمولی تاخیر جیسے معاملات کسی ایک لمحے کی غلطی نہیں ہوتے۔ یہ ایک ایسے انتظامی کلچر کی علامت ہوتے ہیں جہاں فائل مکمل ہونا، دستخط ہو جانا اور ذمہ داری ایک دوسرے محکمے پر ڈال دینا عملی تحفظ سے زیادہ اہم بن جاتا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایسے سانحات کے دوران ہر فرد کو یکساں طور پر قصوروار قرار دینا انصاف نہیں۔ ہنگامی صورتحال میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر مریضوں یا بچوں کو بچانے والے ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس اور سیکیورٹی اہلکار بھی اسی نظام کا حصہ ہیں۔ اصل سوال ان انتظامی فیصلوں کا ہے جن کے باعث ایک حساس ترین وارڈ میں بنیادی حفاظتی انتظامات مؤثر حالت میں موجود نہیں تھے۔

ایک نومولود کے والدین جب اسے اسپتال کے حوالے کرتے ہیں تو وہ صرف علاج کی امید نہیں رکھتے، وہ ریاست کے نظام پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا بچہ ایسی جگہ ہے جہاں ہر ممکن خطرے سے نمٹنے کی تیاری موجود ہوگی۔ اگر یہی اعتماد ٹوٹ جائے تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں ہوتا، پورے معاشرے کا ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں بڑے حادثے کے بعد ایک مانوس سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے، کمیٹی بنائی جاتی ہے، رپورٹ تیار ہوتی ہے، چند افسران کو معطل یا تبدیل کرنے کی سفارش ہوتی ہے اور کچھ عرصے بعد معاملہ خبروں کی گرد میں دب جاتا ہے۔ متاثرہ خاندان البتہ اس سانحے کو اپنی پوری زندگی اٹھائے پھرتے ہیں۔

انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ذمہ داری کا تعین محض نچلی سطح کے ملازمین تک محدود نہ ہو۔ جس افسر کے پاس فیصلہ کرنے، نگرانی کرنے، بجٹ استعمال کرنے اور حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کا اختیار تھا، اس کی ذمہ داری بھی اسی تناسب سے طے ہونی چاہیے۔ انتظامی جوابدہی اور فوجداری ذمہ داری میں فرق ضرور ہے، مگر جہاں واضح غفلت انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنے وہاں قانون کو اپنی پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آنا چاہیے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ سرکاری اسپتالوں میں حفاظتی نظام کو اخراجات کی فہرست میں آخر میں کیوں رکھا جاتا ہے۔ مشینری خریدنے، عمارت بنانے اور افتتاحی تختیاں لگانے پر تو توجہ دی جاتی ہے، مگر فائر سیفٹی، تربیت، ایمرجنسی ڈرلز اور محفوظ انخلا جیسے بنیادی معاملات اکثر نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی اسپتال کا معیار صرف اس کے جدید آلات سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی جانچا جانا چاہیے کہ بحران کے پہلے پانچ منٹ میں وہ اپنے مریضوں کو کس طرح محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ریاستی عہدہ دراصل اختیار سے زیادہ ذمہ داری کا نام ہے۔ ہمارے دینی اور تاریخی ورثے میں حکمران کو رعایا کے معاملات کا جواب دہ سمجھا گیا ہے۔ اسی تصور کا عملی تقاضا یہ ہے کہ اقتدار میں بیٹھنے والا شخص عوام کی تکلیف کو محض ایک فائل یا اعدادوشمار نہ سمجھے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سانحے کی تحقیقات شفاف انداز میں مکمل ہوں، ذمہ داروں کا تعین ثبوت کی بنیاد پر کیا جائے، غفلت کی نوعیت کے مطابق قانونی کارروائی ہو اور سب سے بڑھ کر وہ حفاظتی خامیاں مستقل طور پر ختم کی جائیں جنہیں پہلے ہی خطرناک قرار دیا جاچکا تھا۔

ہم ان معصوم بچوں کو واپس نہیں لا سکتے۔ ان کے والدین کے دلوں میں پیدا ہونے والا خلا بھی شاید کبھی پُر نہ ہوسکے۔ لیکن اگر اس سانحے کے بعد بھی ہمارا نظام خود کو تبدیل نہیں کرتا تو پھر یہ صرف ایک حادثہ نہیں رہے گا، بلکہ ہماری اجتماعی بے حسی کا ثبوت بن جائے گا۔

ریاست کی آزمائش بڑے بحرانوں میں نہیں، اکثر ایک بے بس بچے کی حفاظت میں ہوتی ہے۔ اگر ہم وہاں بھی ناکام ہوجائیں تو ہمیں اپنے ترقیاتی دعووں سے پہلے اپنے احساسِ ذمہ داری کا محاسبہ کرنا ہوگا۔

کیونکہ قومیں صرف عمارتوں سے نہیں بنتیں؛ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے ادارے انسانی جان کو سب سے قیمتی امانت سمجھنے لگتے ہیں۔

Leave a reply