مخالف کون، دشمن کون؟ پاکستان کی سیاست کا پراسرار سفر

مخالف کون، دشمن کون؟ پاکستان کی سیاست کا پراسرار سفر

تحریر:نور فاطمہ

سیاست میں اختلاف جمہوریت کی روح ہے۔ سیاسی جماعتیں، رہنما اور کارکن اگر قومی معاملات، پالیسیوں اور حکومتی فیصلوں پر ایک دوسرے سے اختلاف نہ کریں تو جمہوریت کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اس اختلاف کا دشمنی میں تبدیل ہو جانا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے مخالف کو ختم کرنے کی روایت بارہا دیکھنے کو ملتی ہے۔
پاکستان میں سیاسی اختلاف کو ذاتی اور سیاسی دشمنی میں تبدیل کرنے کی جڑیں اگر تلاش کی جائیں تو اس کا ایک اہم باب ایوب خان کے دور حکومت میں نظر آتا ہے۔ 1965 کے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کا مقابلہ صدر ایوب خان سے تھا۔ مادرِ ملت جیسی مقبول قومی شخصیت کے ساتھ انتخابی مہم کے دوران جس طرح کا سیاسی اور ریاستی رویہ اختیار کیا گیا، وہ آج بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک تلخ باب سمجھا جاتا ہے۔ اس دور میں سیاسی مخالفین پر مقدمات اور پابندیوں نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اقتدار کے لیے اختلاف برداشت کرنے کی گنجائش محدود ہے۔
1973 کا آئین پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک متفقہ قومی دستاویز کے طور پر سامنے آیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی سربراہی میں قائم پارلیمانی نظام سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اب سیاسی اختلاف کو آئینی اور جمہوری دائرے میں رکھا جائے گا۔ بلوچستان اور اس وقت کے صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے اپنی اکثریت کی بنیاد پر حکومتیں قائم کیں۔ عطا اللہ مینگل بلوچستان اور مفتی محمود صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے۔
لیکن وفاق اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اختلافات جلد سیاسی کشمکش میں تبدیل ہوگئے۔ بلوچستان میں حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد مفتی محمود نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ بعد ازاں دونوں صوبوں میں سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور مرکز میں برسراقتدار پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی سیاسی پوزیشن مضبوط کرلی۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی اور اس کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ سیاسی اختلاف کو جمہوری انداز میں برداشت کرنے کے بجائے اسے ریاستی طاقت کے ذریعے ختم کرنا کہاں تک درست ہے؟
1977 کے انتخابات نے سیاسی کشیدگی کو ایک نئے مرحلے میں داخل کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی نتائج تسلیم کرنے سے انکار کیا اور حکومت پر دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک نے ملک گیر شکل اختیار کی۔ حکومت کی جانب سے احتجاج پر قابو پانے کی کوششیں ناکام رہیں، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئیں، تشدد کے واقعات پیش آئے اور بعض شہروں میں مارشل لا نافذ کیا گیا۔
بالآخر 5 جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار سنبھال لیا۔ یوں سیاسی اختلاف کا معاملہ جمہوری اداروں سے نکل کر ایک طویل فوجی دور میں داخل ہوگیا۔ ضیاء الحق کے دور میں سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں، کوڑوں کی سزائیں، صحافیوں کے خلاف کارروائیاں اور سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی جبکہ بے نظیر بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کو قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔
1988 کے بعد ملک دوبارہ پارلیمانی سیاست کی طرف لوٹا، مگر سیاسی برداشت کا کلچر مضبوط نہ ہوسکا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں ایک دوسرے کی سیاسی حریف بنیں اور 1988 سے 1999 کے دوران حکومتوں کی برطرفی، صدر کے اختیارات، سیاسی مقدمات اور احتساب کے نام پر کارروائیوں نے سیاست میں باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا۔ ایک حکومت دوسری حکومت کے خلاف اور ایک سیاسی جماعت دوسری جماعت کے خلاف صف آرا رہی۔
1999 میں جنرل پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک مرتبہ پھر سیاسی جماعتوں کو ریاستی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں نے اپنے سیاسی تجربات سے یہ سبق حاصل کیا کہ اگر ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست جاری رکھی گئی تو اس کا فائدہ کسی جمہوری قوت کو نہیں ہوگا۔
اسی احساس کے نتیجے میں 2006 میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان میثاقِ جمہوریت طے پایا۔ اس معاہدے کی بنیادی روح یہی تھی کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے جمہوری اصولوں کے تحت اختلاف کریں گی اور اقتدار میں آنے کے بعد سیاسی انتقام کی روایت کو آگے نہیں بڑھائیں گی۔ یہ پاکستانی سیاست میں باہمی مفاہمت کی ایک اہم کوشش تھی۔
2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے وفاق میں مل کر حکومت بنانے کی کوشش کی، لیکن جلد ہی دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ پنجاب میں گورنر راج، عدلیہ کی مداخلت اور سیاسی کشیدگی نے دونوں جماعتوں کے تعلقات کو متاثر کیا۔ تاہم اس دور میں اختلافات کے باوجود جمہوری عمل جاری رہا اور پیپلز پارٹی نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔
2013 کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے طویل اسلام آباد دھرنے کا سامنا کرنا پڑا۔ انتخابی دھاندلی کے الزامات کے باعث پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ انتخابی تنازعات کو پارلیمانی اور آئینی فورمز پر حل کیا جائے یا سڑکوں پر طاقت کے ذریعے؟
2017 میں بلوچستان کی حکومت کی تبدیلی کے معاملے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے کردار نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی قربت پیدا کی، تاہم یہ تعلق زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اس کے بعد ملکی سیاست میں تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ مزید شدید ہوتا گیا۔
تحریک انصاف کے دور حکومت میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے خلاف احتسابی کارروائیوں اور سیاسی بیانات نے سیاسی ماحول کو مزید تلخ کردیا۔ اپوزیشن نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا، جبکہ حکومت اسے احتساب اور کرپشن کے خلاف کارروائی کا نام دیتی رہی۔ بالآخر 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی۔ یہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک اہم واقعہ تھا، کیونکہ پہلی مرتبہ کسی وزیر اعظم کو عدم اعتماد کی آئینی کارروائی کے ذریعے اقتدار سے ہٹایا گیا۔
اس کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت متعدد جماعتوں نے مل کر حکومت بنائی۔ یوں جو جماعتیں کچھ عرصہ پہلے تک ایک دوسرے کی سخت سیاسی مخالف تھیں، اقتدار کے ایک نئے بندوبست میں شریک ہوگئیں۔ یہ منظر خود اس بات کا ثبوت ہے کہ سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، مستقل مفاد اور اصول ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی تین بڑی سیاسی قوتیں، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف، اپنی سیاسی تاریخ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ اقتدار میں آنے والی ہر جماعت اگر مخالف کو غدار، ملک دشمن یا ناقابلِ قبول قرار دے گی تو جمہوری نظام مضبوط نہیں ہوگا۔ حکومت آج کسی ایک جماعت کے پاس ہے تو کل دوسری جماعت کے پاس ہوسکتی ہے۔
سیاسی اختلاف کو دشمنی بنانے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ سیاسی ادارے کمزور اور غیر سیاسی قوتیں مضبوط ہوتی ہیں۔ جب سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو برداشت نہیں کرتیں تو وہ خود اپنے لیے ایسے راستے کھول دیتی ہیں جن کا انجام بالآخر جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا۔ ایوب خان سے لے کر بھٹو، ضیاء الحق، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، پرویز مشرف اور عمران خان کے ادوار تک سیاسی کشمکش کی مختلف شکلیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی ایک جماعت یا شخصیت کو ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ سیاسی قوتیں دبائی جا سکتی ہیں، مگر ختم نہیں ہوتیں۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ آج کا مخالف کل کا اتحادی ہوسکتا ہے اور آج کا حکمران کل اپوزیشن میں بیٹھ سکتا ہے۔ اس لیے سیاسی اختلاف کو اختلاف ہی رہنے دیا جائے۔ انتخابات میں مقابلہ ہو، پارلیمان میں بحث ہو، حکومت پر تنقید ہو، احتساب بھی ہو، لیکن انتقام نہ ہو۔
پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک دوسرے کو شکست دینا چاہتی ہیں یا جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔ اگر مقصد صرف اقتدار ہے تو سیاسی دشمنی کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ لیکن اگر مقصد پاکستان میں مستحکم جمہوری نظام ہے تو پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی قوتوں کو ایک بنیادی اصول پر متفق ہونا ہوگا:
اختلاف کریں، مخالفت کریں، حکومت تبدیل کریں، انتخابات میں ایک دوسرے کا مقابلہ کریں، مگر سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی نہ بنائیں۔
کیونکہ سیاسی دشمنی میں کوئی مستقل فاتح نہیں ہوتا، مگر اس کے نقصان کی قیمت ہمیشہ ملک، ادارے اور عوام ادا کرتے ہیں۔

Leave a reply