کب تک؟

تحریر:محمد محسن

شہر کی خوبصورتی صرف کشادہ سڑکوں، بلند عمارتوں، سرسبز پارکوں اور روشن شاہراہوں کا نام نہیں۔ کسی بھی معاشرے کی اصل خوبصورتی اس بات سے جانچی جاتی ہے کہ وہ اپنے کمزور، بے گھر، بے سہارا اور نشے کے عادی افراد کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔ اگر شہر کے خوبصورت پارکوں کے کسی کونے میں انسان گندگی کے ڈھیروں کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، نوجوان نشے کی لت میں مبتلا ہوں اور بچے بھیک مانگتے پھریں تو پھر محض صاف سڑکیں اور بلند عمارتیں کسی شہر کو خوبصورت نہیں بنا سکتیں۔

اسلام آباد میں صبح کی سیر کے دوران ایسے مناظر اب اجنبی نہیں رہے۔ پارکوں میں بے گھر افراد کے ڈیرے، نشے کے عادی نوجوانوں کے گروہ، گندگی، بدبو اور جگہ جگہ بکھرا ہوا کوڑا شہری انتظامیہ کے لیے شاید معمول بن چکا ہے۔ کچھ لوگ بینچوں پر بے خبر سوئے ہوتے ہیں اور کچھ جھاڑیوں یا درختوں کے قریب بیٹھے نشہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں، عورتیں بھی، نوجوان بھی اور عمر رسیدہ افراد بھی۔ ان کے ساتھ چھوٹے بچے بھی دکھائی دیتے ہیں جو شاید ابھی یہ سمجھنے کے قابل نہیں کہ ان کے والدین اور معاشرہ انہیں کس مستقبل کی طرف دھکیل رہا ہے۔

یہ مسئلہ صرف اسلام آباد تک محدود نہیں۔ ملک کے دور دراز دیہات اور چھوٹے قصبوں میں بھی منشیات کی رسائی تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عام آدمی کو اکثر معلوم ہوتا ہے کہ منشیات کہاں سے آتی ہیں، کون بیچتا ہے اور کن لوگوں کی سرپرستی حاصل ہے، مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی لاعلمی حیران کن رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو بات ایک عام دیہاتی جانتا ہے، وہ ریاستی اداروں کی نظروں سے کیسے اوجھل رہتی ہے؟

منشیات کا کاروبار کسی ایک گلی، محلے یا شہر کا مسئلہ نہیں۔ یہ ایک منظم معاشی اور سماجی نیٹ ورک بن چکا ہے۔ اس کے پیچھے منافع کی ایک ایسی دوڑ ہے جس میں انسانی زندگی کی کوئی قیمت نہیں۔ ایک نوجوان کو نشے کا عادی بنانا صرف ایک فرد کو تباہ کرنا نہیں بلکہ پورے خاندان کو معاشی، ذہنی اور سماجی بحران میں مبتلا کرنا ہے۔ اس کے اثرات اگلی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔

صورتحال اس لیے بھی زیادہ خطرناک ہے کہ منشیات کی نوعیت بدل رہی ہے۔ روایتی افیون اور ہیروئن کے ساتھ ساتھ کیمیائی طریقوں سے تیار ہونے والی منشیات بھی نوجوانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ تعلیمی اداروں، بازاروں، رہائشی علاقوں اور تفریحی مقامات تک اس لعنت کا پھیلاؤ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب صرف پولیس کارروائی سے نہیں دیا جا سکتا۔

منشیات کے کاروبار کی معاشی وسعت کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے رہے ہیں۔ اگر اس غیر قانونی تجارت کا حجم اربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے تو پھر یہ سوال ناگزیر ہے کہ اس دولت سے فائدہ اٹھانے والے کون ہیں؟ اتنی بڑی رقم کسی نہ کسی کی جیب، بینک اکاؤنٹ، کاروبار یا جائیداد میں ضرور منتقل ہوتی ہے۔ اگر ریاست واقعی اس کاروبار کا خاتمہ چاہتی ہے تو اسے صرف گلی کے چھوٹے فروش کو پکڑنے کے بجائے اس پورے مالیاتی نظام تک پہنچنا ہوگا جو اس غیر قانونی تجارت کو زندہ رکھتا ہے۔

مسئلے کا ایک اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ نشے کے عادی افراد کو ہم اکثر مجرم سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں، حالانکہ ان میں سے بہت سے لوگ علاج، بحالی اور سماجی مدد کے مستحق ہوتے ہیں۔ نشے کی لت ایک پیچیدہ سماجی اور نفسیاتی مسئلہ ہے۔ ایسے افراد کو محض پکڑ کر چند گھنٹے یا چند دن حوالات میں رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر علاج، بحالی اور دوبارہ معاشرے میں شمولیت کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہو تو وہ دوبارہ اسی ماحول میں لوٹ آتے ہیں جہاں سے پکڑے گئے تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پارک سے کسی نشے کے عادی شخص کو پولیس کی گاڑی میں بٹھا کر لے جانا اور کچھ دیر بعد اسے دوبارہ وہیں دیکھنا کسی ایک پولیس اہلکار کی ناکامی نہیں، بلکہ پورے نظام کی کمزوری کا ثبوت ہے۔ پولیس کے پاس نہ علاج کا انتظام ہے، نہ بحالی کا، نہ ہی ایسے افراد کی طویل مدتی نگرانی کا مؤثر نظام۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پولیس کارروائی بھی محض ایک وقتی مشق بن کر رہ جاتی ہے۔

دوسری طرف شہری بھی اس مسئلے سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ پارکوں اور گلیوں میں منشیات کا کھلے عام استعمال، مشکوک نقل و حرکت اور بچوں کا بھیک مانگنا کسی بھی باشعور معاشرے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مگر شہریوں کی ذمہ داری یہ نہیں کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے لیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ شکایات کے لیے مؤثر نظام موجود ہو، متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور شہریوں کو یہ اعتماد ہو کہ ان کی اطلاع ضائع نہیں ہوگی۔

ریاست کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ منشیات کے چھوٹے استعمال کنندہ اور بڑے کاروباری نیٹ ورک میں فرق کرے۔ ایک طرف نشے کے عادی شخص کو علاج اور بحالی کی ضرورت ہے، دوسری طرف منشیات کی ترسیل، تقسیم اور مالی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف سخت اور مسلسل کارروائی ناگزیر ہے۔ اصل مجرم تک پہنچے بغیر صرف چند افراد کو پکڑنے سے اعداد و شمار تو بہتر دکھائے جا سکتے ہیں، مسئلہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ نوجوان نشے کی طرف کیوں جاتے ہیں۔ بے روزگاری، گھریلو انتشار، ذہنی دباؤ، تنہائی، منفی صحبت، تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی کمی اور مستقبل کے بارے میں مایوسی—یہ سب عوامل اس بحران کو بڑھا سکتے ہیں۔ اگر ریاست صرف منشیات فروش کو پکڑنے تک محدود رہی اور ان بنیادی مسائل کو نظرانداز کیا تو نئے گاہک پیدا ہوتے رہیں گے۔

اسلام آباد ہو یا پشاور، کوئٹہ ہو یا کوئی دور افتادہ قصبہ، منشیات کا مسئلہ محض پولیس کا مسئلہ نہیں۔ یہ صحت، تعلیم، روزگار، سماجی بہبود، شہری انتظامیہ اور عدالتی نظام سب کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے۔ اس کے لیے قومی سطح کی پالیسی، قابلِ اعتماد اعداد و شمار، مؤثر قانون نافذ کرنے والے ادارے، علاج کے مراکز اور بحالی کے پروگرام ضروری ہیں۔

اور سب سے بڑھ کر سیاسی عزم درکار ہے۔

اگر منشیات کے کاروبار سے وابستہ بااثر افراد قانون کی گرفت سے باہر رہیں، اگر چھوٹے فروش پکڑے جاتے رہیں مگر اصل نیٹ ورک محفوظ رہے، اگر نشے کے عادی افراد کو علاج کے بجائے صرف تھانے کا راستہ دکھایا جائے اور اگر پارکوں میں پڑے انسانوں کو ہماری اجتماعی بے حسی کا حصہ سمجھ لیا جائے تو پھر سوال وہی رہے گا:

کب تک؟

کب تک ہم ان لوگوں کو دیکھ کر نظریں پھیرتے رہیں گے؟
کب تک ہمارے پارکوں کے کونے انسانوں کی بے بسی کے گواہ بنتے رہیں گے؟
کب تک نوجوانوں کی زندگیاں چند لوگوں کے منافع کی بھینٹ چڑھتی رہیں گی؟

یہ لوگ بھی انسان ہیں۔ انہیں صرف دھتکارنے سے مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ریاست کو منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی بھی کرنا ہوگی اور نشے میں مبتلا انسان کو زندگی کی طرف واپس لانے کی ذمہ داری بھی قبول کرنا ہوگی۔ کسی معاشرے کی اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اپنے گرے ہوئے انسان کو مزید دھکیلتا ہے یا ہاتھ پکڑ کر اٹھاتا ہے۔

Leave a reply