پاکستان کی قسمت بدلنے والا منصوبہ؟

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے محض سفارتی مراسم تک محدود نہیں رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، تاریخی اور برادرانہ رشتوں کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون کی بھی ایک طویل روایت موجود ہے۔ اب زرعی اور غذائی شعبے میں سامنے آنے والی نئی پیش رفت اس تعلق کو ایک ایسے میدان میں لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے جہاں پاکستان کے لیے برآمدات، روزگار اور دیہی معیشت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں سعودی عرب کے وزیر ماحولیات، پانی و زراعت کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی منڈی میں برآمدات کو آئندہ دو برسوں میں 3 ارب ڈالر تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی۔ بظاہر یہ ایک تجارتی ہدف ہے، لیکن اس کے پیچھے پاکستان کی زرعی معیشت کے لیے ایک بڑا موقع پوشیدہ ہے۔
پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے۔ ہماری بڑی آبادی کا روزگار براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اس کے باوجود عالمی زرعی تجارت میں پاکستان اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق مقام حاصل نہیں کر سکا۔ ہماری زمین، موسم، پانی اور محنت کش افرادی قوت ہمیں چاول، گوشت، پھل، سبزیوں، ڈیری مصنوعات اور دیگر غذائی اجناس کی پیداوار میں نمایاں مقام دے سکتی ہے، مگر کمزور ویلیو چین، معیار کے مسائل، ذخیرہ کرنے کی ناکافی سہولتیں اور جدید ٹیکنالوجی کا محدود استعمال ہماری برآمدی صلاحیت کو متاثر کرتے رہے ہیں۔
سعودی عرب کے ساتھ زرعی تجارت میں اضافے کا منصوبہ اس صورتحال کو بدلنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
چاول اس تعاون کا ایک اہم شعبہ ہے۔ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب کو بڑی مقدار میں چاول برآمد کرتا ہے۔ اگر اس تجارت کو مزید بڑھانا ہے تو صرف مقدار میں اضافہ کافی نہیں ہوگا بلکہ معیار، پیکیجنگ، برانڈنگ اور مستقل سپلائی پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ پاکستانی باسمتی کو عالمی منڈی میں اپنی شناخت حاصل ہے، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے محض ایک زرعی جنس کے بجائے ایک معیاری برانڈ کے طور پر پیش کیا جائے۔
اسی طرح سرخ گوشت پاکستان کے لیے ایک اور بڑا امکان ہے۔ پاکستان میں مویشیوں کی تعداد قابلِ ذکر ہے، لیکن گوشت کی برآمد میں جدید ذبح خانوں، کولڈ چین، ٹریس ایبلٹی اور بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن انتہائی اہم ہیں۔ سعودی منڈی میں گوشت کی طلب کو پاکستانی برآمد کنندگان اگر مستقل معیار کے ساتھ پورا کر سکیں تو یہ شعبہ زرعی معیشت کے لیے نمایاں زرمبادلہ پیدا کر سکتا ہے۔
پھلوں اور ان کے کنسنٹریٹس کا شعبہ بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ پاکستان آم، کینو، امرود اور دیگر پھلوں کی پیداوار میں اچھی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن بڑی مقدار میں پیداوار کے باوجود ویلیو ایڈیشن محدود ہے۔ اگر پھلوں کو جوس، پلپ، کنسنٹریٹ اور دیگر تیار شدہ مصنوعات میں تبدیل کرکے برآمد کیا جائے تو کسان، صنعت اور ملکی معیشت تینوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
اس پورے منصوبے کا ایک اہم پہلو پانی کا مؤثر استعمال بھی ہے۔ پاکستان کو مستقبل میں زرعی پیداوار بڑھانے کے ساتھ پانی کے بحران کا بھی سامنا ہے۔ اس لیے ایسی زرعی ٹیکنالوجی اور آبپاشی کے نظام کی ضرورت ہے جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دے سکیں۔ سعودی عرب خود پانی کے محدود وسائل کے باعث جدید زرعی طریقوں میں تجربہ رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کا تعاون پاکستان کے لیے جدید آبپاشی اور پانی بچانے والی ٹیکنالوجی کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تاہم 3 ارب ڈالر کا ہدف صرف ایک اعلامیے سے حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے لیے حکومتی اداروں، برآمد کنندگان، کسانوں، سرمایہ کاروں اور سعودی خریداروں کے درمیان ایک مربوط نظام بنانا ہوگا۔ برآمدی معیار، سرٹیفکیشن، کسٹمز، لاجسٹکس اور ادائیگیوں کے معاملات کو آسان بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستانی مصنوعات کی سپلائی میں تسلسل اور معیار برقرار رکھنا ہوگا۔
یہاں حکومت کے لیے بھی ایک اہم سبق ہے۔ اگر کسی پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں طلب پیدا ہوتی ہے تو ہمیں فوری طور پر اس کی پوری ویلیو چین پر کام کرنا چاہیے۔ صرف خام زرعی پیداوار برآمد کرنے کے بجائے پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک ہی زرعی پیداوار سے کئی گنا زیادہ برآمدی آمدن حاصل کی جا سکتی ہے۔
سعودی عرب کے ساتھ تعاون پاکستان کے لیے ایک اور پہلو سے بھی اہم ہے۔ یہ شراکت داری دیگر خلیجی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ اگر پاکستان سعودی منڈی میں معیار اور مستقل سپلائی کے حوالے سے اعتماد قائم کر لیتا ہے تو دیگر ممالک کے خریداروں کے لیے بھی پاکستانی مصنوعات پر اعتماد بڑھ سکتا ہے۔
اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اس معاہدے کے فوائد صرف بڑے برآمد کنندگان تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا اثر پاکستانی کسان تک بھی پہنچے۔ کسان کو بہتر بیج، جدید ٹیکنالوجی، پانی کی بچت، مناسب قیمت اور عالمی معیار کی پیداوار کے بارے میں رہنمائی ملے۔ اگر برآمدی معیشت کا فائدہ دیہی پاکستان تک پہنچتا ہے تو یہ محض تجارتی ہدف نہیں رہے گا بلکہ زرعی اصلاحات کا نقطۂ آغاز بن سکتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان زرعی تعاون کا یہ نیا مرحلہ اسی لیے اہم ہے کہ اس میں تجارت کے ساتھ سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، غذائی تحفظ اور نجی شعبے کی شراکت کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اب اصل امتحان عملدرآمد کا ہے۔
3 ارب ڈالر کا ہدف مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان کے پاس زمین، کسان، پیداوار اور متعدد زرعی مصنوعات موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں جدید ٹیکنالوجی، معیاری پراسیسنگ، مؤثر لاجسٹکس اور عالمی مارکیٹنگ کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔
اگر ایسا ہو گیا تو سعودی عرب صرف پاکستانی زرعی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی نہیں رہے گا بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت کو عالمی سطح پر نئی سمت دینے والا ایک اہم شراکت دار بھی بن سکتا ہے۔









