معاہدۂ مکہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اعلیٰ سطح دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں

0
14
معاہدۂ مکہ: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اعلیٰ سطح دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں

استنبول: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اعلیٰ سطح کی اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔

ترک میڈیا کے مطابق اجلاس میں تینوں ممالک کی عسکری قیادت اور متعلقہ وزرا شرکت کریں گے، جہاں دفاعی تعاون، مسلح افواج کے درمیان رابطے اور مشترکہ سلامتی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے امور پر غور کیا جائے گا۔

ترک حکام کے مطابق ترکیہ کی نمائندگی وزیر خارجہ ہاکان فیدان، وزیر دفاع یشار گولر اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائراکتار اولو کریں گے۔

پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف کی اجلاس میں شرکت متوقع ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر سرکاری دورے پر ترکیہ پہنچ چکے ہیں جبکہ اسحاق ڈار بھی ترکیہ میں موجود ہیں۔

سعودی عرب کی نمائندگی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور چیف آف جنرل اسٹاف جنرل فیاض بن حامد الرویلی کریں گے۔

اجلاس میں مشترکہ دفاعی سرگرمیوں کے لیے طویل مدتی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دفاعی صنعت میں تعاون، مشترکہ پیداوار، تحقیق و ترقی اور عسکری شعبے میں صلاحیتوں کے فروغ کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔

تینوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات اور اپنی مسلح افواج کے درمیان آپریشنل رابطہ مزید بہتر بنانے کے امکانات پر بھی غور کریں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں معاہدے کے تحت ہونے والی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کے لیے مستقل سیکریٹریٹ اور دیگر انتظامی طریقہ کار تشکیل دینے کی تجاویز بھی زیرِ بحث آئیں گی۔ مستقبل کے تعاون کے لیے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

یہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کو خطے میں اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب اردوان اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے اور مشترکہ سلامتی کے لیے مربوط نظام قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ معاہدے کی اہم شق کے مطابق کسی ایک رکن ملک کے خلاف جارحیت کو تمام رکن ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

ترک حکام کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں موجود کسی دوسرے دفاعی اتحاد کا متبادل نہیں، تاہم مستقبل میں اس میں مزید ممالک کی شمولیت کا امکان موجود ہے۔ مصر کے ممکنہ طور پر معاہدے کا حصہ بننے کی بات بھی سامنے آ چکی ہے۔

دوسری جانب بنگلا دیش کی جانب سے بھی اس دفاعی فریم ورک میں ممکنہ شمولیت کے حوالے سے دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے۔ بنگلا دیشی وزیر خارجہ خلیل الرحمان نے پارلیمنٹ میں کہا تھا کہ اگر ڈھاکہ کو رکنیت کی پیشکش ہوئی تو حکومت اس پر مثبت انداز میں غور کرے گی۔

Leave a reply