مصنوعی ذہانت اور پاکستان: تماشائی نہیں، شریک بننے کا وقت

مصنوعی ذہانت اور پاکستان: تماشائی نہیں، شریک بننے کا وقت

تحریر:نور فاطمہ

دنیا کی تاریخ میں کچھ تبدیلیاں ایسی ہوتی ہیں جو محض نئی سہولتیں متعارف نہیں کراتیں بلکہ انسانی زندگی کے پورے ڈھانچے کو بدل دیتی ہیں۔ صنعتی انقلاب نے پیداوار کا طریقہ تبدیل کیا، کمپیوٹر نے معلومات کو منظم کرنے کا تصور بدل دیا اور انٹرنیٹ نے فاصلے تقریباً ختم کر دیے۔ اب مصنوعی ذہانت، یعنی AI، ایک ایسی تبدیلی لے کر سامنے آ رہی ہے جو شاید ان تمام انقلابات سے بھی زیادہ گہرا اثر رکھتی ہو۔

مصنوعی ذہانت اب صرف سائنسی تجربہ گاہوں یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ تعلیم، طب، کاروبار، صحافت، صنعت، زراعت، بینکاری اور سرکاری نظام تک پہنچ چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ AI دنیا کو بدلے گی یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی کی رفتار کے ساتھ کون آگے بڑھے گا اور کون پیچھے رہ جائے گا۔

پاکستان کے لیے یہ سوال غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں نوجوان آبادی ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ لاکھوں نوجوان ہر سال تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ روایتی معیشت اتنے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنی ضرورت ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے لیے ایک نیا راستہ کھول سکتی ہیں۔

آج ایک باصلاحیت پاکستانی نوجوان کسی بڑے صنعتی شہر میں موجود ہوئے بغیر بھی دنیا کی کسی کمپنی کے لیے کام کر سکتا ہے۔ وہ سافٹ ویئر، ڈیزائن، ڈیٹا، تحقیق، ترجمہ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور دیگر خدمات کے ذریعے عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ اگر پاکستان اپنے نوجوانوں کو AI، پروگرامنگ، ڈیٹا سائنس اور جدید ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کرے تو یہ صلاحیت مستقبل میں برآمدات کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہمارا تعلیمی نظام اس تبدیلی کے لیے تیار ہے؟

بدقسمتی سے ابھی ہماری توجہ بڑی حد تک روایتی امتحانات، یادداشت اور ڈگری کے حصول پر مرکوز ہے۔ آنے والی دنیا میں صرف یہ جاننا کافی نہیں ہوگا کہ معلومات کہاں سے حاصل کرنی ہیں؛ یہ سمجھنا بھی ضروری ہوگا کہ معلومات کو جانچنا کیسے ہے، AI کو ذمہ داری سے استعمال کیسے کرنا ہے اور نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے مسئلے حل کیسے کرنے ہیں۔

اس لیے AI کی تعلیم کو صرف کمپیوٹر سائنس کے طلبہ تک محدود رکھنا درست نہیں ہوگا۔ مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، استاد، صحافی، کاروباری شخص اور سرکاری افسر سب کو مصنوعی ذہانت کی بنیادی سمجھ درکار ہوگی۔

یہاں ایک اور اہم پہلو روزگار کا ہے۔

AI کچھ موجودہ کاموں کو ضرور تبدیل کرے گی اور بعض شعبوں میں انسانی محنت کی ضرورت کم بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ ٹیکنالوجی صرف ملازمتیں ختم نہیں کرتی، نئے کام بھی پیدا کرتی ہے۔ اصل خطرہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ مہارتوں کی کمی ہے۔ جو لوگ نئی دنیا کی ضرورت کے مطابق خود کو تبدیل نہیں کریں گے، ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

پاکستان کو اس تبدیلی کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔

میڈیا کے لیے بھی مصنوعی ذہانت ایک دو دھاری تلوار ہے۔ AI خبر کی تحقیق، ترجمے، ڈیٹا کے تجزیے اور مواد کی تیاری میں صحافیوں کی مدد کر سکتی ہے، لیکن دوسری طرف جعلی تصاویر، مصنوعی آوازیں اور فرضی ویڈیوز عوام کو گمراہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔

ایسے ماحول میں صحافت کی اصل طاقت رفتار نہیں بلکہ اعتبار ہوگا۔

مستقبل میں ایک جھوٹی ویڈیو لاکھوں لوگوں تک چند منٹوں میں پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے میڈیا اداروں کو صرف خبر پہنچانے کے بجائے خبر کی تصدیق، ذرائع کی جانچ اور ڈیجیٹل فرانزک کی صلاحیت بھی پیدا کرنا ہوگی۔ عوام کو بھی یہ سیکھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا پر نظر آنے والی ہر چیز حقیقت نہیں ہوتی۔

یہ مسئلہ قومی سلامتی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ معلومات کے دور میں کسی معاشرے کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ روایتی ہتھیار ضروری نہیں ہوں گے۔ جھوٹی معلومات، مصنوعی بیانیے اور گمراہ کن مواد عوامی اعتماد، سیاسی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس نئے خطرے کو سنجیدگی سے سمجھنے اور اس کے مقابلے کے لیے ادارہ جاتی صلاحیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

لیکن سب سے بڑا خطرہ شاید یہ ہے کہ ہم AI کو بھی ماضی کی کئی ٹیکنالوجیز کی طرح صرف استعمال کرنے تک محدود رہ جائیں۔

ہم دوسروں کی بنائی ہوئی ایپلی کیشنز استعمال کریں، غیر ملکی سافٹ ویئر خریدیں اور بیرونی پلیٹ فارمز پر انحصار کریں، لیکن اپنی تحقیق، اپنی مصنوعات، اپنا ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اپنی ٹیکنالوجی تیار نہ کریں۔ اگر ایسا ہوا تو ہم نئی معیشت کے خریدار تو بن سکتے ہیں، تخلیق کار نہیں۔

پاکستان کو اس سوچ سے آگے بڑھنا ہوگا۔

ہمیں جامعات، صنعت، حکومت اور نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانا ہوگا۔ مقامی AI تحقیق کے لیے وسائل فراہم کرنا ہوں گے، نوجوانوں کے لیے عملی تربیتی پروگرام شروع کرنا ہوں گے اور ایسی پالیسی بنانی ہوگی جو جدت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کی مقامی تیاری کو فروغ دے۔

ساتھ ہی AI کے استعمال میں اخلاقیات، رازداری اور ذمہ داری کے اصول بھی واضح کرنا ہوں گے۔ جدید ٹیکنالوجی کی طاقت جتنی بڑھتی ہے، اس کے درست استعمال کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان کے پاس مسائل بہت ہیں، لیکن امکانات بھی کم نہیں۔ ایک بڑی نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت اور دنیا بھر میں کام کرنے کی صلاحیت رکھنے والے باصلاحیت افراد ہمارے لیے اہم سرمایہ ہیں۔

ضرورت صرف یہ ہے کہ ہم آنے والی تبدیلی کو خطرہ سمجھ کر اس سے بھاگنے کے بجائے اسے موقع میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی بنائیں۔

مصنوعی ذہانت ہمیں یہ موقع دے رہی ہے کہ ہم کم وسائل کے باوجود عالمی معیشت میں اپنی جگہ مضبوط کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے فیصلے آج کرنا ہوں گے، کیونکہ ٹیکنالوجی انتظار نہیں کرتی۔

مستقبل کسی ایک دن اچانک ہمارے دروازے پر دستک نہیں دے گا۔ وہ خاموشی سے ہماری معیشت، تعلیم، ملازمتوں اور روزمرہ زندگی میں داخل ہو رہا ہے۔

اب انتخاب ہمارے پاس ہے: ہم اس تبدیلی کو صرف دیکھتے رہیں گے، یا اپنی نوجوان نسل کی صلاحیت کو بروئے کار لا کر اس نئے دور کے فعال معمار بنیں گے؟

پاکستان کے لیے AI کا اصل امتحان ٹیکنالوجی خریدنے کا نہیں، اپنی صلاحیت پیدا کرنے کا ہے۔

Leave a reply