کراچی کی راتوں کا پراسرار کھیل

کراچی کی راتوں کا پراسرار کھیل

تحریر:محمد رشید

کراچی صرف ایک شہر نہیں، ایک پوری داستان ہے۔ ہجرت، محنت، کاروبار، تعلیم، سیاست، ادب اور خوابوں کی داستان۔ یہ وہ شہر ہے جس نے ہر آنے والے کو جگہ دی، روزگار دیا اور اپنی گہماگہمی میں سمو لیا۔ مگر آج اسی شہر کے بہت سے باشندے ایک بنیادی سوال پوچھ رہے ہیں: کیا ہم اپنے ہی گھروں اور گلیوں میں محفوظ ہیں؟
مسئلہ صرف اسٹریٹ کرائم تک محدود نہیں رہا۔ چوری، ڈکیتی، گاڑیوں کے پرزے غائب ہونا، گیس کے میٹر اور پائپ اتر جانا، سرکاری و عوامی املاک سے لوہا چوری ہونا—یہ سب واقعات اس بات کی علامت ہیں کہ جرائم پیشہ عناصر کا حوصلہ بڑھ رہا ہے۔ جب کوئی شخص رات کو اپنے گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچے کہ واپسی پر اس کی گاڑی، موٹر سائیکل یا گھر کا کوئی حصہ اپنی جگہ موجود ہوگا یا نہیں، تو سمجھ لیجیے کہ مسئلہ صرف جرم کا نہیں، شہری اعتماد کے ٹوٹنے کا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ وارداتوں میں بعض اوقات ایسی منصوبہ بندی دکھائی دیتی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجرم اپنے ہدف کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے ہیں۔ رقم لے جانے والے شخص کو راستے میں روکنا ایک الگ بات ہے، لیکن اگر اسے گھر سے نکلنے سے پہلے ہی نگرانی میں لے لیا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ معلومات کہاں سے پہنچ رہی ہیں؟
اسی لیے شہری اب نقد رقم کی منتقلی، قیمتی اشیا کی نقل و حرکت اور روزمرہ معمولات کے بارے میں زیادہ محتاط ہو رہے ہیں۔ مگر ایک معاشرہ اس وقت خطرناک موڑ پر پہنچ جاتا ہے جب ہر شخص کو یہ احساس ہونے لگے کہ اسے اپنی حفاظت خود ہی کرنی ہے۔
کراچی کے پرانے رہائشی علاقوں کی صورت حال بھی ایک الگ داستان بیان کرتی ہے۔ کبھی وسیع گلیوں، کھلے گھروں اور ایک دوسرے سے واقف پڑوسیوں والے یہ علاقے اب بڑھتی ہوئی آبادی، غیر منظم تعمیرات اور پورشنز کے دباؤ میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ جہاں کبھی ایک گھر تھا، وہاں اب کئی خاندان آباد ہیں۔ پارکنگ، پانی، گیس، بجلی، صفائی اور سکیورٹی جیسے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
اور پھر چھوٹی چوریوں کا وہ سلسلہ ہے جو بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے مگر مجموعی طور پر شہر کی معیشت اور شہری زندگی پر بھاری پڑتا ہے۔
موٹر سائیکل کا سائلنسر چوری ہونا شاید کسی بڑے اخبار کی سرخی نہ بنے، مگر جس گھر کے فرد کو اسے دوبارہ لگوانے کے لیے اپنی محدود آمدنی سے رقم خرچ کرنا پڑے، اس کے لیے یہ معمولی واقعہ نہیں۔ گیس کا میٹر یا پائپ غائب ہونا بھی صرف چوری نہیں؛ اس کے بعد مرمت، تبدیلی اور بحالی کے اخراجات الگ برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
یہاں سے سوال اٹھتا ہے کہ چوری کا اصل بازار کہاں ہے؟
اگر کوئی شخص سڑک کی حفاظتی باڑ کاٹ کر لے جاتا ہے، پل کے کسی حصے سے لوہا نکالتا ہے، سرکاری تنصیبات کو نقصان پہنچاتا ہے یا کسی عمارت کا سامان اڑا لے جاتا ہے تو وہ چوری شدہ سامان آخر کہاں فروخت کرتا ہے؟ کوئی نہ کوئی خریدار ضرور موجود ہوتا ہے۔ جب تک چوری شدہ مال کی خرید و فروخت کا نظام ختم نہیں ہوگا، صرف چور پکڑنے سے مسئلہ مکمل طور پر حل نہیں ہوگا۔
یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ساتھ انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کی ذمہ داری بھی سامنے آتی ہے۔ شہر کی نگرانی صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ شہری انفراسٹرکچر، روشنی، کیمروں، تجاوزات، کباڑ کے کاروبار، غیر قانونی تعمیرات اور عوامی املاک کی حفاظت—یہ سب ایک مربوط نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔
کراچی کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں جرائم کے ساتھ ساتھ انتظامی بے حسی کا تصور مضبوط ہو رہا ہے۔ شہری اگر کسی واردات کے بعد یہ سوچنے لگے کہ شکایت کا نتیجہ شاید کچھ نہیں نکلے گا، تو یہ کیفیت قانون سے زیادہ خطرناک ہوتی ہے۔ قانون موجود ہو اور شہری کو اس پر یقین نہ رہے تو معاشرہ اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کراچی کے مسائل کو کسی ایک قوم، زبان یا علاقے سے جوڑنا نہ درست ہے نہ مفید۔ جرائم پیشہ ذہنیت کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ جرم فرد کرتا ہے، گروہ کرتے ہیں، بعض اوقات منظم نیٹ ورک کرتے ہیں۔ اگر ہم ہر جرم کو کسی خاص برادری کے ساتھ جوڑ دیں گے تو اصل مجرموں تک پہنچنے کے بجائے معاشرتی تقسیم کو بڑھائیں گے۔
کراچی کو اس وقت الزام تراشی سے زیادہ منظم کارروائی کی ضرورت ہے۔
ضرورت ہے کہ پولیسنگ کو جدید بنایا جائے، حساس مقامات پر مؤثر نگرانی ہو، جرائم کے اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر کارروائی کی جائے، چوری شدہ سامان کی خرید و فروخت کے مراکز پر کریک ڈاؤن کیا جائے، سرکاری تنصیبات کی باقاعدہ نگرانی ہو اور شہری شکایات کے نظام کو ایسا بنایا جائے کہ ایک عام آدمی اپنی شکایت کے انجام سے باخبر رہ سکے۔
اس سے بھی بڑھ کر ضروری ہے کہ شہری اور ریاست کے درمیان اعتماد بحال کیا جائے۔
یہ شہر بہت کچھ سہہ چکا ہے۔ اس نے بدامنی دیکھی، دہشت گردی دیکھی، ہڑتالیں دیکھیں، معاشی بحران دیکھے، سیاسی کشمکش دیکھی اور پھر بھی چلتا رہا۔ اس کے بازار کھلے، فیکٹریاں چلیں، تعلیمی اداروں میں بچے گئے اور لاکھوں لوگوں نے اپنی روزی کمائی۔
کراچی کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں۔
ان لوگوں کو خوف نہیں، تحفظ چاہیے۔ انہیں وعدے نہیں، عملی اقدامات چاہییں۔ انہیں یہ یقین چاہیے کہ اگر ان کے گھر کے باہر کوئی جرم ہو تو ریاست اسے معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرے گی۔
قائداعظم کا شہر کسی کے لیے مالِ غنیمت نہیں۔ یہ پاکستان کی معاشی شہ رگ، لاکھوں خاندانوں کا گھر اور کروڑوں امیدوں کا مرکز ہے۔
شہر کو بچانے کے لیے صرف پولیس کی نفری بڑھانا کافی نہیں؛ قانون، انتظامیہ، بلدیاتی نظام، شہری تعاون اور سیاسی عزم—سب کو ایک سمت میں چلنا ہوگا۔
ورنہ چوری صرف میٹر، پائپ، سائلنسر یا لوہا نہیں لے جائے گی۔
اگر ہم نے بروقت توجہ نہ دی تو یہ ہمارے شہر سے وہ چیز بھی چھین لے گی جس کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا: اعتماد۔
کراچی کو پھر سے ایسا شہر بنانا ہوگا جہاں رات کا اندھیرا خوف کی علامت نہ ہو، جہاں گھر سے نکلنے والا شخص اپنی واپسی کے بارے میں مطمئن ہو اور جہاں قانون صرف کتابوں میں نہیں بلکہ سڑکوں پر بھی نظر آئے۔
اللہ کراچی کو امن دے، اس کے شہریوں کو محفوظ رکھے اور ذمہ داروں کو اتنی توفیق دے کہ وہ اس شہر کے زخموں کو صرف دیکھیں نہیں، ان کا علاج بھی کریں۔
آمین۔

Leave a reply