کیا جیل نیلز واقعی بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

0
12
کیا جیل نیلز واقعی بانجھ پن کا سبب بن سکتے ہیں؟ اصل حقیقت سامنے آگئی

برطانیہ نے جیل نیل مصنوعات میں استعمال ہونے والے کیمیکل ٹرائی میتھائل بینزوائل ڈائی فینائل فاسفین آکسائیڈ (TPO) کے خلاف پابندیاں سخت کر دی ہیں، جس کے بعد جیل مینیکیور اور تولیدی صحت سے متعلق خدشات ایک بار پھر زیرِ بحث آ گئے ہیں۔
TPO بعض جیل نیل مصنوعات میں اس لیے استعمال کیا جاتا ہے کہ وہ یو وی یا ایل ای ڈی لیمپ کی روشنی میں جیل کو تیزی سے سخت کرنے میں مدد دیتا ہے۔ تاہم، اس کی ممکنہ تولیدی صحت پر اثرات کے باعث ریگولیٹری اداروں نے اس کے استعمال پر پابندیاں عائد کرنا شروع کی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام کو جیل مینیکیور پر مکمل پابندی سمجھنا درست نہیں۔ اصل توجہ TPO والے فارمولوں پر ہے، جبکہ آئندہ مزید سخت ضوابط بھی نافذ کیے جانے ہیں۔
تحقیق میں TPO کے حوالے سے تولیدی نظام کو ممکنہ نقصان کے خدشات سامنے آئے ہیں، تاہم یہ نتائج بنیادی طور پر زیادہ مقدار میں کیمیکل کے استعمال سے متعلق تجربات پر مبنی ہیں۔ اس لیے انہیں براہِ راست عام صارفین پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار جیل مینیکیور کروانے سے انسانوں میں بانجھ پن ہونے کا واضح ثبوت موجود نہیں۔ البتہ نیل سیلون میں کام کرنے والے افراد چونکہ روزانہ ایسی مصنوعات کے زیادہ قریب رہتے ہیں، اس لیے ان کے لیے مناسب وینٹی لیشن، حفاظتی دستانوں اور کم خطرناک مصنوعات کا استعمال زیادہ اہم ہے۔
جیل نیلز سے متعلق ایک اور اہم مسئلہ ایکریلیٹس اور میتھاکریلیٹس ہیں، جو بعض افراد میں جلدی الرجی پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کی علامات میں ناخنوں کے گرد خارش، سرخی، سوجن، درد، جلد کا پھٹنا یا چھلکے اترنا اور چھالے شامل ہو سکتے ہیں۔ بعض صورتوں میں الرجی ہاتھوں کے علاوہ چہرے یا گردن تک بھی پھیل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق احتیاطاً ایسی مصنوعات کا انتخاب بہتر ہے جن میں ممنوع یا مشتبہ کیمیکلز شامل نہ ہوں، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بار بار جیل مینیکیور کرواتے یا سیلون میں کام کرتے ہیں۔
خلاصہ: موجودہ معلومات جیل مینیکیور کو براہِ راست بانجھ پن کی وجہ ثابت نہیں کرتیں۔ اصل تشویش بعض مخصوص کیمیکلز، خصوصاً TPO، اور ان سے بار بار یا زیادہ مقدار میں ہونے والی نمائش سے متعلق ہے۔

Leave a reply